پاکستان میں 5 سال تک پرانی گاڑیوں کی کمرشل بنیادوں پر درآمد کی اجازت مل گئی۔
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل بنیادوں پر درآمد کی اجازت دے دی گئی جس کے لیے وزارت تجارت نے گزشتہ روزجاری کیے گئے اپنے نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ یہ (استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد)ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات کی سخت تعمیل سے مشروط ہو گی۔ اس کی منظوری 24 ستمبر کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دی تھی جس کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ابتدائی طور پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہو گی جبکہ جون 2026 کے بعد پانچ سال والی حد بھی ختم کر دی جائے گی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مطابق جون 2026 تک استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹیز کے علاوہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہو گی مگر اس اضافی ڈیوٹی کو 2029-30 تک ختم کر دیا جائے گا۔مئی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر قرض پروگرام کے سلسلے میں کچھ نئی شرائط عائد کی تھیں جن میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندی ختم کرنا بھی شامل تھا۔ اس سے قبل ملک میں صرف پرسنل بیگیج یا گفٹ ا سکیم کے تحت اکثر جاپان سے استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی جاتی تھیں جن پر بھاری ڈیوٹیز عائد ہوتی تھیں۔آئی ایم ایف نے اپنی کنٹری رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کے آٹو اسمبلرز کو 'بیرونی مقابلے سے تحفظ کے لیے حاصل سبسڈی، رعایت اور ترجیح ختم کی جائے۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے لیے پاکستانی حکومت امپورٹ ٹیرف میں واضح کمی لائے تاہم اب پاکستان کے آٹو اسمبلرز اور پارٹس کی نمائندہ تنظیم پاما کو خدشہ ہے کہ اس سے گاڑیوں کی مقامی صنعت تباہ ہو جائے گی اور لاکھوں لوگ بیروزگار ہو سکتے ہیں جبکہ ہوال نامی ایس یو وی کاریں فروخت کرنے والی کمپنی سازگار کا کہنا ہے کہ فی الحال حکومت کی عائد کردہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی سے مارکیٹ پر درآمدات کا دبا کم رہے گا۔آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سربراہ ایچ ایم شہزاد کہتے ہیں کہ مقامی کمپنیوں کو حاصل تحفظ ہی ان کے زوال کی وجہ بنا ہے۔ ان کا اعتراض ہے کہ کمپنیوں نے کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود لوکلائزیشن پر کام نہیں کیا اور عام لوگوں کے لیے سستی گاڑیاں نہیں بنائیں۔وہ انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہاں سوزوکی آلٹو جیسی کار کی قیمت چار لاکھ انڈین روپے ہے مگر پاکستان میں آلٹو ساڑھے 33 لاکھ روپے کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز