کسی سے معافی نہیں مانگی ، بھارتی میڈیا من گھڑت کہانیاں گڑھ رہا ہے:محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
ویب ڈیسک :میں نے کچھ غلط نہیں کیا، میں بی سی سی آئی سے کبھی معافی نہیں مانگوں گا،ٹرافی میرے دفتر پڑی ہے،میں انھیں خوش آمدید کہوں گا آکر لے جائیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرصدر اےسی سی محسن نقوی نے بھارتی میڈیا کو جھوٹا قرار دےدیا، کہا بھارتی میڈیا جھوٹ بولتا ہے اورجھوٹ کاسہارا لیتا ہے،نہ میں نے کچھ غلط کیاہے نہ ہی بی سی سی آئی سے معافی مانگی ہے،نہ ہی میں بی سی سی آئی سے کبھی معافی مانگوں گا۔
’’اپنے ہتھیار ہمارے حوالے کر دو‘‘
اے سی سی صدرکی حیثیت سےفائنل والےدن ٹرافی دینے کےلیےتیارتھا اوراب بھی تیار ہوں،وہ واقعی چاہتے ہیں،تو وہ اے سی سی کےدفتر آئیں اور مجھ سے ٹرافی وصول کریں،میں انھیں خوش آمدید کہوں گا۔
محسن نقوی نےکہا بھارتی میڈیا من گھڑت کہانیاں گڑھ رہا ہے،میرے خلاف گھناونی سازش ہے،بھارتی میڈیاکامقصد صرف اپنےلوگوں کوگمراہ کرنا ہے،بدقسمتی سےبھارت کرکٹ میں سیاست کو گھسیٹنا جاری رکھےہوئے ہے،بھارتی بورڈ سے کھیل کی ساخت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
انڈیا کاٹرافی لینے سے انکار،پاکستان کے وقار پر حملہ، محسن نقوی صرف بہانہ!
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا محسن نقوی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔