نیتن یاہو کی معافیاں: اخلاقی اعتراف یا سیاسی مجبوری؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
بین الاقوامی تعلقات میں کسی ریاستی رہنما کا معافی مانگنا محض ایک اخلاقی عمل نہیں ہوتا بلکہ یہ سفارت کاری اور طاقت کے توازن کا عکاس سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیل کے طویل عرصہ تک وزیرِاعظم رہنے والے بنیامین نیتن یاہو کی سیاست میں معافی کے چند اہم مواقع دیکھنے کو ملتے ہیں جو عالمی سطح پر نمایاں سفارتی بحرانوں کے بعد سامنے آئے۔ یہ معافیاں تعداد میں کم ضرور ہیں لیکن ان کے اثرات علاقائی سیاست اور عالمی تعلقات پر بہت گہرے ثابت ہوئے۔
ستمبر 1997 میں اس وقت بحران کھڑا ہوا جب اسرائیلی خفیہ ادارے موساد نے اردن کے دارالحکومت عَمَّان میں حماس کے رہنما خالد مشعل کو زہر دینے کی ناکام کوشش کی۔ اس واقعے نے اردن اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔
شاہ حسین نے سخت موقف اختیار کیا اور اسرائیل پر شدید دباؤ ڈالا۔ بالآخر نیتن یاہو نے ذاتی طور پر شاہ حسین سے معذرت کی اور زہر کا تریاق فراہم کیا جس کے نتیجے میں مشعل کی جان بچائی گئی اور تعلقات مکمل ٹوٹنے سے محفوظ رہے۔ بی بی سی اور نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس معافی کے ساتھ ہی اسرائیل نے شیخ احمد یاسین اور دیگر فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کیا۔
اسی طرح مئی 2010 میں آزادی غزہ بیڑا یا مرمرہ واقعہ پیش آیا جس میں 9 ترک کارکن اسرائیلی کمانڈوز کی کارروائی میں مارے گئے۔ اس پر ترکی اور اسرائیل کے تعلقات تقریباً منقطع ہوگئے۔ 3 برس کی کشیدگی کے بعد مارچ 2013 میں امریکی صدر باراک اوباما کی ثالثی سے نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلی فون پر معافی مانگی اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔
گارڈین اور بی بی سی کے مطابق اسرائیل نے معاوضہ دینے پر بھی رضامندی ظاہر کی جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کی راہ نکلی۔
ایک اور بحران جولائی 2017 میں سامنے آیا جب اسرائیلی سفارتخانے کے محافظ نے عَمَّان میں 2 اردنی شہریوں کو فائرنگ کر کے قتل کیا۔ یہ واقعہ اردنی عوام اور حکومت دونوں کے لیے ناقابلِ قبول تھا اور طویل تناؤ پیدا ہوا۔ بالآخر جنوری 2018 میں اسرائیل نے اردن کو باضابطہ معافی پیش کی جسے نیتن یاہو کی منظوری حاصل تھی۔ رائٹرز اور الجزیرہ کے مطابق اس معافی میں متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ اور قانونی کارروائی کی یقین دہانی بھی شامل تھی، جس سے بحران کا خاتمہ ممکن ہوا۔
سب سے تازہ واقعہ ستمبر 2025 کا ہے جب اسرائیل نے دوحہ پر فضائی حملہ کیا جس سے ایک قطری شہری جاں بحق اور ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی۔ اس پر قطر نے سخت ردعمل دیا اور وائٹ ہاؤس نے فوری مداخلت کی۔
رائٹرز اور الجزیرہ کے مطابق ایک سہ فریقی کال کے دوران نیتن یاہو نے امیر قطر تمیم بن حمد سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہیں آئے گا۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خلیج میں اسرائیل کے تعلقات کس قدر نازک ہیں اور کسی بھی غلطی پر اسے فوری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
ان چاروں معافیوں کے تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کی معافیاں اخلاقی بنیادوں پر نہیں بلکہ سفارتی اور سیاسی دباؤ کے نتیجے میں سامنے آئیں۔ 1997 اور 2018 میں اردن کے ساتھ تعلقات کو مکمل ٹوٹنے سے بچانے کے لیے، 2013 میں امریکا کے دباؤ اور ثالثی کے تحت، اور 2025 میں واشنگٹن کی براہِ راست مداخلت کے بعد یہ اقدامات کیے گئے۔ دوسرے الفاظ میں یہ معافیاں کرائسس مینجمنٹ کا آلہ ثابت ہوئیں، نہ کہ اصولی اعترافِ غلطی۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ معافیاں اسرائیل کی پالیسی میں کسی حقیقی اخلاقی بیداری کی نمائندگی کرتی ہیں یا محض وقتی فائدے کے لیے کی جانے والی سیاسی مجبوری ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے کبھی بھی فلسطینی عوام، جن پر اس کی پالیسیوں نے براہِ راست ظلم ڈھایا ہے، ان سے کھلی معذرت نہیں کی۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اسرائیل کی گری ہوئی اخلاقی حیثیت کو مزید گراتا ہے بلکہ اسے دنیا کے سامنے ایک ایسی غاصبانہ اکائی کے طور پر پیش کرتا ہے جو ظلم کے بعد دباؤ میں آکر جزوی معافی مانگتی ہے مگر اپنی جارحانہ پالیسیوں پر کبھی غور نہیں کرتی۔
دوسرے لفظوں میں، یہ معافیاں وقتی سہارا تو دے سکتی ہیں لیکن اسرائیل کے غلیظ کردار پر لگے بد نما دھبوں کو کبھی نہیں دھو سکیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل دوحہ غزہ فلسطین قطر نیتن یاہو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل فلسطین نیتن یاہو نیتن یاہو کی یہ معافیاں اسرائیل نے اسرائیل کے کے مطابق کے بعد کے لیے
پڑھیں:
قابلِ فخر سعد ایدھی
کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔
سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔
اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔
غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔
یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔
ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔
بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔
Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔
سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔
انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔
فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔