WE News:
2026-07-24@01:47:28 GMT

نیتن یاہو کی معافیاں: اخلاقی اعتراف یا سیاسی مجبوری؟

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

نیتن یاہو کی معافیاں: اخلاقی اعتراف یا سیاسی مجبوری؟

بین الاقوامی تعلقات میں کسی ریاستی رہنما کا معافی مانگنا محض ایک اخلاقی عمل نہیں ہوتا بلکہ یہ سفارت کاری اور طاقت کے توازن کا عکاس سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیل کے طویل عرصہ تک وزیرِاعظم رہنے والے بنیامین نیتن یاہو کی سیاست میں معافی کے چند اہم مواقع دیکھنے کو ملتے ہیں جو عالمی سطح پر نمایاں سفارتی بحرانوں کے بعد سامنے آئے۔ یہ معافیاں تعداد میں کم ضرور ہیں لیکن ان کے اثرات علاقائی سیاست اور عالمی تعلقات پر بہت گہرے ثابت ہوئے۔

ستمبر 1997 میں اس وقت بحران کھڑا ہوا جب اسرائیلی خفیہ ادارے موساد نے اردن کے دارالحکومت عَمَّان میں حماس کے رہنما خالد مشعل کو زہر دینے کی ناکام کوشش کی۔ اس واقعے نے اردن اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔

شاہ حسین نے سخت موقف اختیار کیا اور اسرائیل پر شدید دباؤ ڈالا۔ بالآخر نیتن یاہو نے ذاتی طور پر شاہ حسین سے معذرت کی اور زہر کا تریاق فراہم کیا جس کے نتیجے میں مشعل کی جان بچائی گئی اور تعلقات مکمل ٹوٹنے سے محفوظ رہے۔ بی بی سی اور نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس معافی کے ساتھ ہی اسرائیل نے شیخ احمد یاسین اور دیگر فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کیا۔

اسی طرح مئی 2010 میں آزادی غزہ بیڑا یا مرمرہ واقعہ پیش آیا جس میں 9 ترک کارکن اسرائیلی کمانڈوز کی کارروائی میں مارے گئے۔ اس پر ترکی اور اسرائیل کے تعلقات تقریباً منقطع ہوگئے۔ 3 برس کی کشیدگی کے بعد مارچ 2013 میں امریکی صدر باراک اوباما کی ثالثی سے نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلی فون پر معافی مانگی اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔

گارڈین اور بی بی سی کے مطابق اسرائیل نے معاوضہ دینے پر بھی رضامندی ظاہر کی جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کی راہ نکلی۔

ایک اور بحران جولائی 2017 میں سامنے آیا جب اسرائیلی سفارتخانے کے محافظ نے عَمَّان میں 2 اردنی شہریوں کو فائرنگ کر کے قتل کیا۔ یہ واقعہ اردنی عوام اور حکومت دونوں کے لیے ناقابلِ قبول تھا اور طویل تناؤ پیدا ہوا۔ بالآخر جنوری 2018 میں اسرائیل نے اردن کو باضابطہ معافی پیش کی جسے نیتن یاہو کی منظوری حاصل تھی۔ رائٹرز اور الجزیرہ کے مطابق اس معافی میں متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ اور قانونی کارروائی کی یقین دہانی بھی شامل تھی، جس سے بحران کا خاتمہ ممکن ہوا۔

سب سے تازہ واقعہ ستمبر 2025 کا ہے جب اسرائیل نے دوحہ پر فضائی حملہ کیا جس سے ایک قطری شہری جاں بحق اور ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی۔ اس پر قطر نے سخت ردعمل دیا اور وائٹ ہاؤس نے فوری مداخلت کی۔

رائٹرز اور الجزیرہ کے مطابق ایک سہ فریقی کال کے دوران نیتن یاہو نے امیر قطر تمیم بن حمد سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہیں آئے گا۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خلیج میں اسرائیل کے تعلقات کس قدر نازک ہیں اور کسی بھی غلطی پر اسے فوری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

ان چاروں معافیوں کے تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کی معافیاں اخلاقی بنیادوں پر نہیں بلکہ سفارتی اور سیاسی دباؤ کے نتیجے میں سامنے آئیں۔ 1997 اور 2018 میں اردن کے ساتھ تعلقات کو مکمل ٹوٹنے سے بچانے کے لیے، 2013 میں امریکا کے دباؤ اور ثالثی کے تحت، اور 2025 میں واشنگٹن کی براہِ راست مداخلت کے بعد یہ اقدامات کیے گئے۔ دوسرے الفاظ میں یہ معافیاں کرائسس مینجمنٹ کا آلہ ثابت ہوئیں، نہ کہ اصولی اعترافِ غلطی۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ معافیاں اسرائیل کی پالیسی میں کسی حقیقی اخلاقی بیداری کی نمائندگی کرتی ہیں یا محض وقتی فائدے کے لیے کی جانے والی سیاسی مجبوری ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے کبھی بھی فلسطینی عوام، جن پر اس کی پالیسیوں نے براہِ راست ظلم ڈھایا ہے، ان سے کھلی معذرت نہیں کی۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اسرائیل کی گری ہوئی اخلاقی حیثیت کو مزید گراتا ہے بلکہ اسے دنیا کے سامنے ایک ایسی غاصبانہ اکائی کے طور پر پیش کرتا ہے جو ظلم کے بعد دباؤ میں آکر جزوی معافی مانگتی ہے مگر اپنی جارحانہ پالیسیوں پر کبھی غور نہیں کرتی۔

دوسرے لفظوں میں، یہ معافیاں وقتی سہارا تو دے سکتی ہیں لیکن اسرائیل کے غلیظ کردار پر لگے بد نما دھبوں کو کبھی نہیں دھو سکیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل دوحہ غزہ فلسطین قطر نیتن یاہو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل فلسطین نیتن یاہو نیتن یاہو کی یہ معافیاں اسرائیل نے اسرائیل کے کے مطابق کے بعد کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل