شادی کے جھوٹے وعدے کرکے تعلقات قائم کیے، ٹک ٹاکر فاطمہ خان کے رجب بٹ پر سنگین الزامات
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
ٹک ٹاکر فاطمہ خان نے پاکستان کے معروف یوٹیوبر رجب بٹ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ رجب بٹ نے شادی کے جھوٹے وعدے کرکے انہیں تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں ٹک ٹاکر فاطمہ خان نے بتایا کہ ان کی رجب بٹ سے پہلی ملاقات ایک دوست کے ذریعے ہوئی تھی، جس نے انہیں اپنی بہن کے طور پر متعارف کرایا تھا۔ ملاقات کے دوران وہاں دیگر افراد بھی موجود تھے۔
فاطمہ کا کہنا ہے کہ رجب بٹ نے انہیں مہنگے تحائف دیے، جن میں 39 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی بھی شامل ہے۔
ٹک ٹاکر نے الزام عائد کیا کہ رجب بٹ نہ صرف شراب نوشی کے عادی ہیں بلکہ متعدد لڑکیوں کو دھوکے سے استعمال کرتے رہے ہیں۔ فاطمہ کے مطابق ان کے اور رجب بٹ کے درمیان کئی بار تعلقات قائم ہوئے اور اکثر نشے کی حالت میں رجب بٹ نے ان پر تشدد بھی کیا۔
فاطمہ نے مزید الزام لگایا کہ یوٹیوبر ہم جنس پرستی میں بھی ملوث ہیں اور اس حوالے سے ان کے پاس ویڈیوز سمیت ثبوت موجود ہیں۔ ٹک ٹاکر کا یہ پوڈکاسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔