ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے باوجود کاروباری برادری عالمی تجارت کے بارے میں پُر امید
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے درآمدی ٹیرف میں تاریخی اضافے کے باوجود کاروباری نمائندے عالمی تجارت کے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہیں۔
یہ امید ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس کے تازہ سروے رپورٹ میں ظاہر کی گئی ہے۔
اے سی سی اے نے اپنی رپورٹ "عالمی تجارت کی صورتحال، کاروباری رہنماؤں کے نظریات" کے لیے کاروباری رہنماؤں اور فنانس پروفیشنلز سے سروے اور انٹرویوز کیے۔
سروے میں 85فیصد شرکاء نے ٹیرف کے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا لیکن 56فیصد نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ 3 سے 5 سال میں ان کے اداروں کی عالمی تجارت بڑھے گی جبکہ صرف 23 فیصد نے کمی کی پیشگوئی کی، خاص طور پر C-Suite ایگزیکٹوز میں اعتماد کی سطح بلند رہی۔
اے سی سی اے کے چیف اکانومسٹ جوناتھن ایشور کے مطابق سال 2025 امریکا کی درآمدی پالیسیوں کے حوالے سے ایک "یادگار سال" رہا اور اگرچہ عالمی معیشت نے رکاوٹوں کے باوجود مزاحمت دیکھی ہے جس سے مستقبل میں سست روی کا امکان موجود ہے۔
سروے میں کاروباری برادری نے سب سے بڑے خطرات کے طور پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی، جنگوں اور ترقی یافتہ معیشتوں میں تحفظ پسند پالیسیوں کو اجاگر کیا۔ تاہم مواقع کے حوالے سے اکثریت نے ٹیکنالوجی (بشمول AI) کے ذریعے عالمی تجارت کو فروغ دینے کو سب سے اہم موقع قرار دیا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ 60فیصد تنظیموں نے پہلے ہی اپنی سپلائی چین اور سرمایہ کاری کے ماڈلز میں تبدیلی کی ہے جبکہ 61فیصد مزید تبدیلی کا ارادہ رکھتی ہیں۔
ساتھ ہی 81فیصد نے خدشہ ظاہر کیا کہ بڑھتی رکاوٹوں کے باعث آئندہ برسوں میں ان کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی تجارت
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن