اضافی ٹیکس نہیں لگا رہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں،وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات درست اور مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے کسی قسم کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
یہ بات انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران کہی، جس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا کر رہے تھے۔ وزیر خزانہ نے کمیٹی کو معیشت کی حالیہ صورتحال اور جاری مالیاتی حکمت عملی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
بین الاقوامی بانڈز اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کر رہی ہے، اور اسی سلسلے میں چین میں پانڈا بانڈ جاری کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں 25 کروڑ ڈالر کے بانڈز جاری ہوں گے، جن کے لیے چینی سرمایہ کاروں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے 50 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈز کی ادائیگی کر دی ہے، جب کہ اپریل 2026 میں مزید 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ادائیگی متوقع ہے۔
ٹیکس اہداف، عدالتی مقدمات اور مالی نظم و ضبط
وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس شارٹ فال دیکھا گیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ متعدد ٹیکس مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں، اور ان کے فیصلے سے ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئے گی۔ حکومت کا ہدف ہے کہ مالی سال کے اختتام تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد تک پہنچا دی جائے، اور اس میں سنجیدگی سے کام جاری ہے۔
کرپٹو کرنسی پر ریگولیشن اور وژن
محمد اورنگزیب نے معاشی جدت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کرپٹو کرنسی ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے اور پاکستان کو بھی اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ورچوئل اتھارٹی بل پر کام جاری ہے تاکہ اس غیر ریگولیٹڈ شعبے کو باقاعدہ قانون کے دائرے میں لایا جا سکے۔
آئی ایم ایف مذاکرات کا پس منظر
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے دوسرے جائزے اور 1.
آئی ایم ایف کا وفد ملک کی معاشی صورتحال، حالیہ سیلاب کے اثرات اور بجٹ اہداف کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں بورڈ کی منظوری کے بعد قرض کی اگلی قسط جاری کی جائے گی۔ Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔