data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی تحقیقی ویب سائٹ *ریسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے امریکی کمپنی کلاک ٹاور کے ساتھ 60 لاکھ ڈالر (6 ملین) کا معاہدہ کیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، بشمول ChatGPT، پر اثرانداز ہونا اور اسرائیل کے حق میں تیار کردہ بیانیے کو عالمی سطح پر فروغ دینا ہے۔

کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت تیار کیے جانے والے مواد کا کم از کم 80 فیصد حصہ ٹک ٹاک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور پوڈکاسٹس سمیت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زیڈ، کو ہدف بنائے گا۔ منصوبے کا مقصد ہر ماہ کم از کم 5 کروڑ (50 ملین) تاثرات پیدا کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابقکلاک ٹاور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) پر مبنی ایک مصنوعی ذہانت پلیٹ فارم استعمال کرے گی، تاکہ گوگل اور بنگ جیسے سرچ انجنوں میں اسرائیل کے حق میں بیانیے کو نمایاں کیا جا سکے اور ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل نواز مواد کو سیلم گروپ کے پروگراموں میں بھی شامل کیا جائے گا۔ یہ وہ عیسائی میڈیا نیٹ ورک ہے جو ہیو ہیوٹ، لیری ایلڈر اور دی رائٹ ویو جیسے پروگرامز تیار کرتا ہے۔ “دی رائٹ ویو” کی میزبانی لارا ٹرمپ کرتی ہیں، جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے کی اہلیہ ہیں۔

اس پورے منصوبے میں نمایاں نام بریڈ پارسکل کا ہے، جو کلاک ٹاور کی قیادت کر رہے ہیں اور سیلم گروپ میں چیف اسٹریٹجسٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پارسکل 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے مینیجر رہ چکے ہیں اور ان کا نام متنازعہ *کیمبرج اینالیٹیکا* اسکینڈل سے بھی جوڑا جاتا ہے، جس پر ووٹروں پر اثرانداز ہونے کے الزامات لگے تھے۔

ماہرین کے مطابق یہ مہم ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب امریکی عوام میں اسرائیل کے لیے حمایت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ گزشتہ برس جولائی میں کرائے گئے گیلپ سروے کے مطابق 18 سے 34 سال کے صرف 9 فیصد امریکی نوجوان غزہ پر اسرائیلی جنگ کے حامی ہیں۔ دیگر عوامی جائزوں میں بھی اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

دریں اثنا، گذشتہ جمعہ کو اسرائیل نواز اثرورسوخ رکھنے والی شخصیات سے ملاقات میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ سوشل میڈیا اب اسرائیل کا “سب سے اہم ہتھیار” بن چکا ہے۔ نیتن یاہو، جو غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب ہیں، نے کہا کہ جنگی ہتھیار وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ آج آپ تلواروں سے نہیں لڑ سکتے، اب سب سے مؤثر ہتھیار سوشل میڈیا ہے۔

دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیل کے

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار