جامعہ کراچی ، بیرونی عناصر کا جمعیت کے کارکنان پر حملہ، 3شدید زخمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے نہتے کارکنان پر غنڈہ عناصر کا حملہ، بدھ کو سہ پہر ساڑھے تین بجے (3:30 بجے) جامعہ کراچی کے آرٹس لابی کے قریب ایک نہایت افسوسناک اور پرتشدد واقعہ رونما ہوا ہے۔ جس میں ایک قوم پرست تنظیم سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ سو سے زاید مسلح افراد، جو خود کو ’’سندھی شاگرد ست‘‘ کے نام سے متعارف کرواتے ہیں، جامعہ کی حدود میں داخل ہوئے۔ یہ عناصر اسلحہ، ڈنڈوں، لوہے کی راڈوں اور دیگر خطرناک ہتھیاروں سے لیس تھے۔ انہوں نے نہتے طلبہ کو بربریت کا نشانہ بنایا۔اس واقعے میں جمعیت کے تین کارکنان کو آرٹس لابی کے قریب باقاعدہ ٹارگٹ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ حملہ آوروں نے نہ صرف طلبہ پر حملہ کیا بلکہ خوف و ہراس پھیلانے کی غرض سے اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں کی موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی اور جامعہ کے پرامن ماحول کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی معمولی جھگڑا یا اتفاقی واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم، منصوبہ بند اور اشتعال انگیز حملہ تھا، جس کا مقصد اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان کو نشانہ بنانا اور جامعہ میں انتشار و بدامنی پھیلانا تھا۔حملہ کرنے والے غنڈہ عناصر نے جامعہ کراچی میں سندھو دیش کے نعرے لگائے اور پاکستان مخالف نعرے بازی کی۔ ہم جامعہ کراچی کی انتظامیہ ،شہری انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر ان غنڈہ عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ کے جامعہ کراچی
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔