Jasarat News:
2026-07-24@02:51:28 GMT

صوبہ سندھ میں لوٹ مار کا سسٹم

اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251002-03-7
اے ابن آدم یہ لوٹ مار کا حکومتی نظام پورے ملک میں بڑی شان وشوکت سے چل رہا ہے، اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقہ اس لوٹ مار پر فخر کرتا ہے مرکز سے لے کر چاروں صوبوں میں کرپشن کا بازار گرم ہے، ہمارے حکمران تو سیلاب کو بھی اپنے لیے کسی نعمت سے کم نہیں سمجھتے یہ وہ لوگ ہیں جو صرف سیلاب زدہ علاقے کے دورہ بھی اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے کرتے ہیں، حکومت برطانیہ کا 30 لاکھ پائونڈ امداد کا اعلان حکومت نے عالمی اداروں سے بھی امداد کی اپیل کردی ہے۔ سنگاپور امداد کے لیے 50 ہزار ڈالر دے گا۔ کاش ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے تو ہمیں دوسرے ممالک سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہمارے حکمرانوں کی عیاشیاں اپنے عروج پر ہیں، غیر ضروری اخراجات بھی اربوں میں ہیں، کون سی ایسی مراعات ہے جو حکمران طبقہ وصول نہیں کرتا، غریب عوام کے پیسوں پر عیاشی کرنے والے حکمران اپنی عیاشیوں کو پورا کرنے کے لیے طرح طرح کے ٹیکس لگاتے رہتے ہیں اگر صرف بجلی کے بل کے ٹیکس دیکھ لیں تو ہوش اُڑ جاتے ہیں۔ کراچی میں کمرشل بلوں میں ایک ہزار کا بھتا لگا ہوا ہوتا ہے اس کے علاوہ کے ایم سی کے 150 روپے الگ آتے ہیں۔ اللہ بھلا کرے جماعت اسلامی کا کہ اُس نے بجلی کے بلوں میں موجود کے ایم سی چارجز پر عدالت میں مقدمہ کردیا ہے۔ میری جماعت اسلامی سے اپیل ہے کہ کراچی میں جو بجلی کے کمرشل بل موصول ہوتے ہیں ان میں موجود 1000 جو فکس چارجز کے نام سے یہ مافیا وصول کررہی ہے اس پر بھی مقدمہ کیا جائے، کرپشن کے خلاف آواز حق صرف جماعت اسلامی ہی بلند کرتی ہے۔ کراچی کے تاجروں نے کے ایم سی ٹیکس اور اس میں مزید اضافے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اب کراچی کے عوام ماہانہ 285 کروڑ روپے میونسپل ٹیکس ادا کریں گے۔ لیکن کراچی کی عوام اور تاجروں کو بارش کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کیے جارہے۔

پریس کانفرنس میں تاجروں نے برسات کے موقع پر مرتضیٰ وہاب اور وزیراعلیٰ سندھ کے رویے کو انتہائی ظالمانہ اور سنگدلانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بارش کی پیشگی اطلاعات کے باوجود میئر کراچی نے عوام اور تاجروں کو بارش سے بچانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ تاجروں نے کہا کہ کیماڑی سے سہراب گوٹھ تک گلشن اقبال سے سعدی ٹائون اور لانڈھی تک مارکیٹوں اور آبادیوں میں 5 سے 10 فٹ تک پانی داخل ہوگیا جس کی وجہ سے تاجروں اور عوام کا سب کچھ پانی میں ڈوب گیا جس سے ان کا اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ابن آدم کہتا ہے یہ نقصان کیا بلدیہ ادا کرے گی۔ قارئین اس حوالے سے بڑی اہم خبر میری نظر سے گزری، یہ خبر کراچی کی نہیں ہے مگر ایک بڑا سچ ضرور ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سی ڈی اے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کا تذکرہ ہوا۔ عدالت عالیہ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مقدمے کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق تمام اختیارات سی ڈی اے سے ایم سی آئی کو منتقل ہونا تھے جو کچھ سی ڈی اے بورڈ کررہا ہے یہ لوکل گورنمنٹ کے ادارے کو کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک روپے کے استعمال کا اختیار لوکل گورنمنٹ کا ہے۔ آئین کہتا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے اپنا اختیار استعمال کریں گے۔

عدالت عالیہ نے 4 اور عدالت عظمیٰ نے ایک فیصلہ دیا لیکن حکومت نے اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن نہیں ہونے دیے۔ جسٹس محسن کیانی نے سوال کیا کہ مجھے پاکستان کا کوئی ایک ادارہ بتائیں جو اپنا کام ہینڈل کرنے کے قابل رہا ہو؟ مجھے عدالتوں سمیت کوئی ایک ادارہ بتادیں جو وہ کام کررہا ہو جو ان کو کرنا چاہیے تھا۔ ابن آدم سچ بولنے پر جسٹس محسن کیانی صاحب کو سلام پیش کرتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عدالت بھی حکومت کی زبان بولتی ہے۔ حکمران اپنی مرضی کے فیصلے کرواتے ہیں۔ اداروں میں میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں رہی، ہر ادارے میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہوتی ہے، ٹھیکے من پسند لوگوں کو ملتے ہیں جس کام کے پیسے ٹھیکے دار کو دیے جاتے ہیں وہ سب حصوں میں بٹ جاتے ہیں۔ کاغذات میں کام کردیا جاتا ہے اور مال ہڑپ کرلیا جاتا ہے، برسوں سے لوٹ مار کا یہ نظام سرکاری اداروں میں پھل پھول رہا ہے، افسران اور ٹھیکے دار راتوں رات کروڑ پتی اور ارب پتی بن جاتے ہیں، پھر من پسند افسران اپنے سیاسی آقائوں کو ان کا حصہ باعزت طریقے سے دے کر آتے ہیں تا کہ ان کی کرسی مضبوط تر ہوجائے۔

ایک بہت بڑی ناانصافی محکمہ تعلیم میں ہورہی ہے وہ استاد جو آئی بی اے کے امتحان میں اور قابلیت کی بنیاد پر محکمہ تعلیم میں بھرتی ہوئے ان کی کوئی پنشن نہیں، تنخواہ ایک کلرک کے برابر جبکہ نااہل پرانے استاد جو آج 19 اور 20 گریڈ تک پہنچ گئے ان کو آج بھی لکھنے اور بولنے کی تمیز نہیں ہے۔ ایک نسل برباد کرکے رکھ دی ان کی تنخواہیں لاکھوں میں پنشن نہایت پرکشش جب چاہتے ہیں چھٹی کرلیتے ہیں سارا دن سیاسی گفتگو اور چائے پی کر گھر چلے جاتے ہیں جبکہ وہ استاد جو آئی بی اے سے امتحان پاس کرکے خالص میرٹ پر بھرتی ہوئے ہیں نہ تو وہ چھٹی کرسکتے ہیں۔ نہ ان کی گھر کے قریب پوسٹنگ وغیرہ ہوسکتی ہے، ان استادوں میں خواتین استاد بھی شامل ہیں جو دور دراز کا سفر طے کرکے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے آتی ہیں، آدھی سے زیادہ تنخواہ تو ان کی کرایہ میں لگ جاتی ہے۔ ابن آدم حکومت سندھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان سب کی تنخواہوں میں 100 فی صد فوری اضافے کا اعلان کریں ساتھ ان کو پنشن کی سہولت بھی دی جائے، ایک مسئلہ اور نظر سے گزرہ ہے کہ جب نئے استادوں کے پرانے واجبات مطلب تنخواہ کا Arrear جب اے جی سندھ جاتا ہے تو محکمہ تعلیم والے اس پر ان سے اپنا کمیشن طلب کرتے ہیں، نام استعمال کرتے ہیں، اے جی سندھ کے دفتر کا، ہوسکتا ہے مل کر دونوں طرف کمیشن کھایا جاتا ہو کیونکہ بغیر رشوت کے تو کوئی ممکن ہی نہیں ہے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سندھ میں حکومت کے نام پر لوٹ مار اور کرپشن کا سسٹم چل رہا ہے اس کی ذمے داری ان پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے فارم 47 کے ذریعے ان لوگوں کو مسلط کیا۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کراچی اور سندھ کی تباہی کی سب سے زیادہ ذمے دار ہیں اور یہ دونوں آج بھی وفاق کا حصہ ہیں۔ 20 سال گزر گئے K4 منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔ تین حکومتیں گزر گئیں گرین لائن پروجیکٹ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ریڈ لائن منصوبہ اہل کراچی کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ 15 سال سے پی ایف سی ایوارڈ نہیں جاری کیا گیا۔ سندھ حکومت 15 سال میں کراچی کے 3360 ارب روپے کھا چکی ہے جس میں وفاق کا حصہ بھی شامل ہے۔ سندھ حکومت کراچی کو صوبے کا حصہ نہیں سمجھتی صرف مال بنانے کے لیے اہل کراچی پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک خاندان اور 40 وڈیروں کا دوسرا نام ہے۔ مرتضیٰ وہاب اہل کراچی کے ترجمان بننے کے بجائے وڈیروں اور جاگیرداروں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔

شجاع صغیر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی کے جاتے ہیں لوٹ مار کے لیے ایم سی کا حصہ رہا ہے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن