آزاد کشمیر میں احتجاج کی آڑ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر اشتعال اور تشدد پر اتر آئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
آزاد کشمیر میں احتجاج کی آڑ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر اشتعال اور تشدد پر اتر آئے جب کہ حکومت کی جانب سے کئی بار مذاکرات کی دعوت کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری ہے۔
آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی میں شامل چند شرپسندوں نے پولیس اہلکاروں پر حملے کر دیے، شرپسندوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ اور دیگر سامان چھین لیا۔
شرپسندوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ؛ عوامی ایکشن کمیٹی نے حملہ کیا اور ہمیں یرغمال بنا کر وردیاں پھاڑ دیں، پتھر اور ڈنڈے بھی مارے، ہم سے اسلحہ چھین لیا گیا اور پولیس والوں پر فائرنگ بھی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی پُرتشدد مظاہرے، 3 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق
زخمی پولیس اہلکار نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی سے پولیس اہلکاروں نے کہا کہ آپ پر امن احتجاج کریں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، ہمارے منع کرنے کے باوجود مظاہرین پہاڑوں پر چڑھ گئے اور اوپر سے ہم پر فائرنگ کی، فائرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے آنسو گیس بھی پھینکی۔
زخمی پولیس اہلکار نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی والوں نے کیل لگے ڈنڈوں سے پولیس ملازمین کو مارا، عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین نے تشدد کیا جس سے ایس پی صاحب بھی زخمی ہوئے، عوامی ایکشن کمیٹی کے پر تشدد مظاہرین نے ہماری کوئی بات نہیں سنی۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کی خراب صورتحال پر وزیراعظم پاکستان کا سخت نوٹس، مذاکرات کمیٹی کے ارکان میں اضافہ
زخمی پولیس اہلکار نے مزید کہا کہ ہم ڈڈیال کے چھوٹے سے شہر چکسواری کے علاقے پلاک میں ڈیوٹی کر رہے تھے، شرپسند مظاہرین نے ہماری رہائش گاہوں کا گھیراؤ کیا ہمارا سامان تک جلا دیا، شر پسند مظاہرین کے پاس 30 بور، نائن ایم ایم پسٹل تھے، اللہ نے ہماری جان بچائی کیونکہ شر پسند مظاہرین نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
زخمی پولیس اہلکار کے مطابق شر پسند مظاہرین نے کنٹینر ہٹا دیا ،جس ایمبولینس میں میں جا رہا تھا اس کو بھی تباہ کردیا، عوامی ایکشن کمیٹی احتجاج کے نام پر امن و امان کو خراب کرنے کی مذموم سازش میں مصروف ہے۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے پُرتشدد مظاہرہوں میں 3 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ تین روز کے دوران تقریباً 172 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 12 کی حالت تشویشناک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں عوامی ایکشن کمیٹی زخمی پولیس اہلکار پولیس اہلکاروں مظاہرین نے کمیٹی کے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔