کرکٹرز کے این او سی کے معاملے پر کرکٹ آسٹریلیا کا پی سی بی سے رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کرکٹ آسٹریلیا کے سی ای او ٹوڈ گرین برگ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستانی کھلاڑی اس سال بھی بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں شریک ہوں گے۔
اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے این او سی روکنے کے فیصلے پر بات ہوئی ہے اور گزشتہ چند روز سے پی سی بی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے جلد اس مسئلے کا حل نکل آئے گا اور بی بی ایل کا یہ سیزن ایک بار پھر شاندار ثابت ہوگا۔
ٹوڈ گرین برگ نے کہا کہ ہم پاکستانی کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہنے کے منتظر ہیں، وہ بی بی ایل کی ویلیو اور معیار میں مزید اضافہ کریں گے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں پی سی بی نے غیر ملکی لیگز کے لیے اپنے کھلاڑیوں کے این او سی عارضی طور پر روک دیے تھے۔ ذرائع کے مطابق این او سی صرف ان کھلاڑیوں کو جاری کیے جائیں گے جو بین الاقوامی اور ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی کے معیار پر پورا اتریں گے۔
پاکستان کی جانب سے بابراعظم، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور شاداب خان سمیت سات کھلاڑی بی بی ایل میں شامل ہیں، جب کہ لیگ کا آغاز دسمبر میں ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک