ویمنز ورلڈکپ: بی سی سی آئی نے پاک بھارت کھلاڑیوں کے مصافحے سے راہِ فرار اختیار کرلی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے ایک بار پھر اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ سے قبل پاکستان ٹیم کے ساتھ مصافحے کے معاملے پر اپنا مؤقف پیش کر دیا ہے۔
بھارتی بورڈ کے مطابق 5 اکتوبر کو سری لنکا کے شہر کولمبو میں شیڈول پاک بھارت ویمنز میچ میں کھلاڑیوں کے درمیان ہاتھ ملنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیوجیت سائیکیا نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے حوالے سے بورڈ کی پالیسی وہی ہے جو گزشتہ ہفتے ایشیا کپ کے دوران اختیار کی گئی تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کرکٹ کے تمام بین الاقوامی قوائد و ضوابط پر عمل کیا جائے گا، تاہم بھارت اور پاکستان کی کھلاڑیوں کے آپس میں ہاتھ ملانے سے متعلق کوئی یقین دہانی نہیں دی جا سکتی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ ایشیا کپ کے دوران بھی بھارتی ٹیم نے میچ سے قبل پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکار کر کے کھیل کو سیاست کی نذر کر دیا تھا۔ اس رویے پر شائقین اور ماہرین کرکٹ نے بھارتی ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اب ورلڈکپ میں بھی اسی قسم کے مؤقف کے باعث خدشہ ہے کہ ایک بار پھر اسٹیڈیم کے ماحول پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاک بھارت میچ ویمنز ورلڈکپ کے اہم ترین مقابلوں میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے اور دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین اس کے شدت سے منتظر ہیں، تاہم بی سی سی آئی کا یہ رویہ کھیل کی روح کے خلاف سمجھا جا رہا ہے اور کرکٹ سے وابستہ حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کھیل کو کھیل ہی رہنے دیا جائے، سیاست کو اس میں شامل کر کے کھلاڑیوں کے درمیان کھیل کے جذبے کو متاثر نہ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کھلاڑیوں کے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔