وقف ایکٹ کے خلاف تین اکتوبر کو ہونے والا "بھارت بند" احتجاج ملتوی کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
بیان میں کہا گیا ہے کہ وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف بورڈ کا ایجی ٹیشن منصوبہ بندی کے مطابق جاری رہیگا اور دیگر تمام تقریبات شیڈول کے مطابق ہونگی۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے 3 اکتوبر 2025ء کے لئے اپنی "بھارت بند" کال کو ملتوی کر دیا ہے۔ بورڈ نے یہ فیصلہ ملک کے مختلف حصوں میں منائے جانے والے تہواروں کی وجہ سے کیا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف اس کا ایجی ٹیشن منصوبہ بندی کے مطابق جاری رہے گا اور دیگر تمام تقاریب مقررہ تاریخوں پر منعقد ہوں گی۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک بیان میں کہا کہ اطلاعات کے مطابق ملک کی کچھ ریاستوں میں ہمارے ساتھی شہریوں کے مذہبی تہوار بھی انہی تاریخوں پر منائے جا رہے ہیں۔ اس کے پیش نظر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی اور بورڈ کے ترجمان ایس کیو آر الیاس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی صدارت میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عہدیداروں کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وسیع بحث اور جائزہ کے بعد متفقہ طور پر 3 اکتوبر کو ہونے والے بھارت بند کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لہٰذا 3 اکتوبر کو اعلان کردہ بھارت بند کو ملتوی کر دیا گیا ہے اور جلد ہی نئی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف بورڈ کا ایجی ٹیشن منصوبہ بندی کے مطابق جاری رہے گا اور دیگر تمام تقریبات شیڈول کے مطابق ہوں گی۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان اور وقف بچاؤ مہم کے قومی کنوینر الیاس نے کہا کہ بھارت بند کو ملتوی کر دیا گیا ہے، لیکن انشاء اللہ جلد ہی نئی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔ وقف مخالف قانون کے خلاف ایجی ٹیشن منصوبہ بندی کے مطابق جاری رہے گی۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ سمیت کئی مسلم تنظیمیں نئے وقف ایکٹ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ 17 ستمبر کو مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنی وقف بچاؤ مہم کے لئے ایک روڈ میپ کا اعلان کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ملک بھر کے مسلمان صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک احتجاج کے طور پر اپنے کاروبار، دفاتر اور ادارے بند رکھیں گے۔ 3 اکتوبر کو مسلم پرسنل لاء بورڈ جو وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف ملک گیر مہم کی قیادت کر رہی ہے، کا دعویٰ ہے کہ یہ وقف اداروں کی خود مختاری کو مجروح کرتا ہے اور مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ بورڈ نے پہلے ہی مختلف ریاستوں میں عوامی میٹنگوں، ریلیوں اور دستخطی مہموں کا اہتمام کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایجی ٹیشن منصوبہ بندی کے مطابق جاری وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ میں کہا کو ملتوی کر میں کہا گیا بھارت بند اکتوبر کو بورڈ کے گیا ہے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ