بھارت: آسمانی بجلی گرنے سے باپ بیٹے سمیت 7 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع فتح پور کی تحصیل صدر کے علاقے میں مختلف مقامات پر آسمانی بجلی گرنے سے باپ بیٹے سمیت 7 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے متاثرہ خاندان کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کراتے ہوئے تمام لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھیج دیا ہے۔ پہلا واقعہ فتح پور کے غازی پور تھانہ علاقے میں پیش آیا ، جہاں ایک ریٹائرڈ ریلوے ملازم دیش راج آسمانی بجلی گرنے سے موقع ہی پر اپنی جان سے دھو بیٹھا۔ دیش راج سیمور میں منعقدہ تقریب میں شرکت کے بعد لوٹ رہے تھے لیکن راستے میں تیز بارش آنے پر وہ ایک درخت کے نیچے رک گئے۔ اسی دوران بجلی گر گئی۔ دوسرا واقعہ اسوتھر تھانے کی حدود میں پیش آیا جہاں پرائمری اسکول کے پیچھے جنگل میں اپنے مویشی چرا نے والے 2نوجوان نیرج گپتا، کلو گپتا اور ان کا ساتھی وپن رائے داس آسمانی بجلی کی زد میں آ گئے۔تیسرا واقعہ ضلع میں لالولی کے دتولی گاؤں میں رونما ہوا جہاں 2 افراد ہلاک ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا سمانی بجلی
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔