جماعت اسلامی‘ جے یو آئی‘ مرکزی مسلم لیگ کا آج اسرائیل کیخلاف احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
لاہور؍ اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار+ خبر نگار) گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے اور اسرائیلی مظالم کیخلاف جماعت اسلامی‘ جمعیت علماء اسلام اور مرکزی مسلم لیگ نے آج ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن معاہدہ کو نو آبادیاتی نظام کی بحالی کا اعلان قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان پر واضح کیا ہے کہ اس کے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کے کسی مذموم ارادے کی ہر سطح پر اس طرح مزاحمت ہو گی کہ حکمران طبقہ عبرت کا نشان بن جائے گا۔ آزاد کشمیر میں مظاہرین کے جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں‘ حکومت دانش مندی سے معاملہ حل کرے۔ منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی نیوی کے حملہ اور امدادی کارکنوں کو یرغمال بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور فلسطین سے اظہار یکجہتی‘ ٹرمپ کے غزہ امن معاہدہ اور فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ کے خلاف آج جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا۔ جماعت اسلامی امریکی معاہدہ پر حماس کے مؤقف کی تائید کرے گی۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا بیس نکاتی فارمولا مسترد کرتے ہیں۔ آج بروز جمعہ تمام ضلعی ہیڈ کواٹرز میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف مظاہرے کئے جائیں۔ خطباء اور آئمہ خطبات جمعہ میں ٹرمپ کے نکات کے خلاف قراردادیں پاس کروائیں۔ مظاہروں میں صمود فلوٹیلا پر حملے کے خلاف بھر پور احتجاج کیا جائے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اہل غزہ کی امداد کیلئے جانے والے قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور شرکاء کی گرفتاری، اہل غزہ پر 2 سال سے جاری بربریت پر آج ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا۔ بعد نماز جمعہ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں یکجہتی غزہ مظاہرے ہوں گے۔ مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کا کہنا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ اور قافلے کے شرکاء کی گرفتاری کھلی دہشت گردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فلوٹیلا پر اسرائیلی احتجاج کا اعلان صمود فلوٹیلا پر مرکزی مسلم لیگ جماعت اسلامی کے خلاف
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔