حال ہی میں نشر ہونے والے ڈرامہ ’بریانی‘ نے اپنی کہانی اور پرفارمنسز کے ذریعے ناظرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ڈرامے کے عنوان نے عوام کی دلچسپی کو بڑھایا۔ کچھ نے سمجھا کہ یہ ایک کامیڈی ہے، جبکہ کچھ لوگ پوسٹر کے سنجیدہ انداز سے حیران تھے۔ لیکن جہاں نام اور پوسٹر نے ابتدائی تجسس پیدا کیا، وہاں ڈرامہ نے اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔

ظفر معراج کی تحریر اور بدر محمود کی ہدایت کاری میں تیار کردہ یہ ڈرامہ ایک ایسی محبت کی داستان ہے جس میں رومانس، دل شکستگی، ہنسی مذاق اور شاندار اداکاری کو بخوبی شامل کیا گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں: ڈرامہ انڈسٹری میں واپسی، صنم چوہدری نے کیا انوکھی شرط رکھی؟

کہانی نسا (رامشا خان) اور میر میر ان (خوشحال خان) کے گرد گھومتی ہے، جہاں نسا ایک سینئر طالبہ کی حیثیت سے میر میر ان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ میر میر ان، جو ایک قدامت پسند جاگیردارانہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اپنی آزادی کی جدوجہد میں نسا کا سہارا لیتے ہیں۔ شروع میں ان کا تعلق ضدی ہوتا ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ دوستی میں بدل جاتا ہے۔

گل مہر (سرورت گیلانی) کا کردار بھی کہانی میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے جو میر میران کی زندگی میں نرمی اور رہنمائی کا باعث بنتا ہے۔ گیلانی کا گل مہر کا کردار بے حد شاندار ہے، وہ وقار اور نفاست کی تصویر ہیں۔

شروع سے ہی میر میر ان اور گل مہر کے تعلقات میں راز ہے۔ وہ ہر قدم پر ان کی رہنمائی لیتے ہیں اور اگرچہ شو کے شروع میں یہ تعلق پوشیدہ رکھا گیا ہے، لیکن جو لوگ 2010 کی ’نور بانو‘ کو یاد رکھتے ہیں، انہوں نے اشارے پکڑ لیے ہوں گے۔ اس ہفتے کے قسط نے ان کے تعلق کی تصدیق کر دی ہے۔

ڈرامے کا آغاز تو اچھا تھا لیکن کہانی میں کچھ غیر مستحکم لمحات بھی دیکھنے کو ملے۔ ایک قابل اعتراض لمحہ وہ تھا جب گل مہر اور ماہین نے صرف ایک ملاقات کے بعد نسا اور میر میران کے درمیان رومانوی کشمکش کا اشارہ دیا، جبکہ دونوں کرداروں میں کوئی واضح اشارہ نہیں تھا۔ یہ جلد بازی اور غیرموزوں محسوس ہوا۔

اگر اسے ایک رومانوی ڈرامے کے طور پر دیکھا جائے تو بریانی کام کرتی ہے، لیکن کبھی کبھار تحریر کمزور پڑ جاتی ہے۔ رمشا کے کردار کو ایک ایسی لڑکی کے طور پر دکھایا گیا ہے جو اپنی تصویر کا خیال رکھتی ہے، حدود قائم رکھتی ہے اور لیبلز سے بچنا چاہتی ہے۔ وہ میر میران سے کہتی ہے کہ وہ اپنی نظریں نوٹ بک یا لیپ ٹاپ پر جمائے رکھے۔

مگر جلد ہی وہ ان کے گھر جاتی ہے کپڑے بدلنے کے لیے اور یہاں تک کہ ان کے کپڑے پہن لیتی ہے۔ یہ اچانک تبدیلی ان کے پہلے والے اصولوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ ڈرامے میں جلد بازی محسوس ہوتی ہے جب تک کہ کہانی میں کچھ اور نہ ہو جو ان کے رومانس کو دکھا نا رہا ہو۔

اس ہفتے کی قسط میں ایک اور تضاد سامنے آیا جب گل مہر نے بتایا کہ وہ 35 سال کی عمر میں میر میر ان سے شادی کر چکی ہیں اور ان کی شادی کو 4 سال ہو چکے ہیں۔ اس حساب سے میر میر ان کی عمر بھی کم از کم 35 سال ہونی چاہیے، جو کہ غیر منطقی ہے کیونکہ وہ ایک فرسٹ ایئر یونیورسٹی کے طالب علم کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ یہ معاملہ تحریری غلطی، ڈائیلاگ کی ادائیگی میں خامی، یا کہانی کا کوئی پوشیدہ موڑ ہو سکتا ہے، تاہم اس نے سوالات کو جنم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نقل یا اتفاق؟ نئے پاکستانی ڈرامہ ‘معصوم’ کے مناظر اور کہانی پر سوالات اٹھنے لگے

قسط 15 کے بعد، سوشل میڈیا پر میر میران کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے نسا کو شادی شدہ ہونے کا راز نہیں بتایا۔ تاہم، یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ میر میران ہمیشہ گل مہر پر بھروسہ کرتے ہیں۔ شاید وہ کہانی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں جسے لکھاری بہتر طریقے سے پیش کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ یہ محض ایک عام محبت کی کہانی نہیں ہے۔

اپنی خامیوں کے باوجود، بریانی میں اداکاری نمایاں ہے۔ رمشا خان اور خوشحا خان اپنی اپنی اداکاری میں مکمل ڈوب جاتے ہیں۔ یہ ان کا دوسرا پروجیکٹ ہے  انہوں نے اس سال ’دنیاپور‘ میں بھی ساتھ کام کیا تھا اور ان کی کیمسٹری بہت اچھی دکھائی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بریانی بریانی ڈرامہ خوشحال خان رمشا خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بریانی بریانی ڈرامہ خوشحال خان کہانی میں گل مہر

پڑھیں:

مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر

اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔

اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔

اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔

مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔

نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔

اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔

ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے