’بریانی ایک محبت کی کہانی، جس میں تمام صحیح اجزاء موجود ہیں‘
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
حال ہی میں نشر ہونے والے ڈرامہ ’بریانی‘ نے اپنی کہانی اور پرفارمنسز کے ذریعے ناظرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ڈرامے کے عنوان نے عوام کی دلچسپی کو بڑھایا۔ کچھ نے سمجھا کہ یہ ایک کامیڈی ہے، جبکہ کچھ لوگ پوسٹر کے سنجیدہ انداز سے حیران تھے۔ لیکن جہاں نام اور پوسٹر نے ابتدائی تجسس پیدا کیا، وہاں ڈرامہ نے اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔
ظفر معراج کی تحریر اور بدر محمود کی ہدایت کاری میں تیار کردہ یہ ڈرامہ ایک ایسی محبت کی داستان ہے جس میں رومانس، دل شکستگی، ہنسی مذاق اور شاندار اداکاری کو بخوبی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈرامہ انڈسٹری میں واپسی، صنم چوہدری نے کیا انوکھی شرط رکھی؟
کہانی نسا (رامشا خان) اور میر میر ان (خوشحال خان) کے گرد گھومتی ہے، جہاں نسا ایک سینئر طالبہ کی حیثیت سے میر میر ان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ میر میر ان، جو ایک قدامت پسند جاگیردارانہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اپنی آزادی کی جدوجہد میں نسا کا سہارا لیتے ہیں۔ شروع میں ان کا تعلق ضدی ہوتا ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ دوستی میں بدل جاتا ہے۔
گل مہر (سرورت گیلانی) کا کردار بھی کہانی میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے جو میر میران کی زندگی میں نرمی اور رہنمائی کا باعث بنتا ہے۔ گیلانی کا گل مہر کا کردار بے حد شاندار ہے، وہ وقار اور نفاست کی تصویر ہیں۔
شروع سے ہی میر میر ان اور گل مہر کے تعلقات میں راز ہے۔ وہ ہر قدم پر ان کی رہنمائی لیتے ہیں اور اگرچہ شو کے شروع میں یہ تعلق پوشیدہ رکھا گیا ہے، لیکن جو لوگ 2010 کی ’نور بانو‘ کو یاد رکھتے ہیں، انہوں نے اشارے پکڑ لیے ہوں گے۔ اس ہفتے کے قسط نے ان کے تعلق کی تصدیق کر دی ہے۔
ڈرامے کا آغاز تو اچھا تھا لیکن کہانی میں کچھ غیر مستحکم لمحات بھی دیکھنے کو ملے۔ ایک قابل اعتراض لمحہ وہ تھا جب گل مہر اور ماہین نے صرف ایک ملاقات کے بعد نسا اور میر میران کے درمیان رومانوی کشمکش کا اشارہ دیا، جبکہ دونوں کرداروں میں کوئی واضح اشارہ نہیں تھا۔ یہ جلد بازی اور غیرموزوں محسوس ہوا۔
اگر اسے ایک رومانوی ڈرامے کے طور پر دیکھا جائے تو بریانی کام کرتی ہے، لیکن کبھی کبھار تحریر کمزور پڑ جاتی ہے۔ رمشا کے کردار کو ایک ایسی لڑکی کے طور پر دکھایا گیا ہے جو اپنی تصویر کا خیال رکھتی ہے، حدود قائم رکھتی ہے اور لیبلز سے بچنا چاہتی ہے۔ وہ میر میران سے کہتی ہے کہ وہ اپنی نظریں نوٹ بک یا لیپ ٹاپ پر جمائے رکھے۔
مگر جلد ہی وہ ان کے گھر جاتی ہے کپڑے بدلنے کے لیے اور یہاں تک کہ ان کے کپڑے پہن لیتی ہے۔ یہ اچانک تبدیلی ان کے پہلے والے اصولوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ ڈرامے میں جلد بازی محسوس ہوتی ہے جب تک کہ کہانی میں کچھ اور نہ ہو جو ان کے رومانس کو دکھا نا رہا ہو۔
اس ہفتے کی قسط میں ایک اور تضاد سامنے آیا جب گل مہر نے بتایا کہ وہ 35 سال کی عمر میں میر میر ان سے شادی کر چکی ہیں اور ان کی شادی کو 4 سال ہو چکے ہیں۔ اس حساب سے میر میر ان کی عمر بھی کم از کم 35 سال ہونی چاہیے، جو کہ غیر منطقی ہے کیونکہ وہ ایک فرسٹ ایئر یونیورسٹی کے طالب علم کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ یہ معاملہ تحریری غلطی، ڈائیلاگ کی ادائیگی میں خامی، یا کہانی کا کوئی پوشیدہ موڑ ہو سکتا ہے، تاہم اس نے سوالات کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نقل یا اتفاق؟ نئے پاکستانی ڈرامہ ‘معصوم’ کے مناظر اور کہانی پر سوالات اٹھنے لگے
قسط 15 کے بعد، سوشل میڈیا پر میر میران کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے نسا کو شادی شدہ ہونے کا راز نہیں بتایا۔ تاہم، یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ میر میران ہمیشہ گل مہر پر بھروسہ کرتے ہیں۔ شاید وہ کہانی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں جسے لکھاری بہتر طریقے سے پیش کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ یہ محض ایک عام محبت کی کہانی نہیں ہے۔
اپنی خامیوں کے باوجود، بریانی میں اداکاری نمایاں ہے۔ رمشا خان اور خوشحا خان اپنی اپنی اداکاری میں مکمل ڈوب جاتے ہیں۔ یہ ان کا دوسرا پروجیکٹ ہے انہوں نے اس سال ’دنیاپور‘ میں بھی ساتھ کام کیا تھا اور ان کی کیمسٹری بہت اچھی دکھائی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بریانی بریانی ڈرامہ خوشحال خان رمشا خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بریانی بریانی ڈرامہ خوشحال خان کہانی میں گل مہر
پڑھیں:
’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ معروف گلوکار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے عیسیٰ خیل میں اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ آخرت کی تیاری کو زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے حال ہی میں صحافی ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، موسیقی اور ذاتی خیالات پر کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے۔ میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، مکمل بن چکی ہے۔ اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا ورنہ بعد میں خود ہی دیکھ لیں گے۔ ہمارا اپنا خاندانی قبرستان بھی ہے، جہاں میں نے اپنے لیے ایک قبر مخصوص کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ چند جگہیں اور بھی ہیں جن میں سے ایک کے بارے میں میں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ میری اہلیہ کے لیے ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ مذاق کر رہا ہوں حقیقت میں صرف اپنی قبر محفوظ کروائی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔
گلوکار نے قبر کے بارے میں بتایا کہ یہ خیال اس وقت آیا جب میں نے ایک فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروائی۔ پھر سوچا کہ میرے لیے بھی ایک جگہ ہونی چاہیے۔ میں اپنے کئی قریبی دوستوں، عزیزوں، خاندان کے افراد اور اپنی والدہ کو کھو چکا ہوں، اسی لیے موت کا خیال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ میری صرف یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے پُرسکون موت عطا فرمائے۔
یہ بھی پڑھیں: عطااللہ عیسیٰ خیلوی کس کے لکھے گانے گا کر مشہور ہوئے؟
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔ ایک صارف نے لکھا قبر پہلے سے بنوانا درست نہیں البتہ کفن کی تیاری کی جا سکتی ہے۔
ایک اور نے تبصرہ کیا صرف قبر تیار کر لینا کافی نہیں، اصل تیاری آخرت کی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان کا ایمان مضبوط ہے، ہم تو قبر کا ذکر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا قبر بنانے کے بجائے اگر اولڈ ایج ہوم بنا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عطااللہ عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی قبر قبر گلوکار ویڈیو وائرل