شہباز شریف کے دورہِ ریاض میں بڑے فیصلوں کی تیاری، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نئے معاشی اقدامات کا اعلان متوقع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد اب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
وزیراعظم کا دورہِ ریاضوزیر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اس ماہ کے آخر میں ریاض کا دورہ کریں گے جس دوران بڑے معاشی اقدامات اور مشترکہ منصوبوں کا اعلان متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک سعودی دفاعی معاہدہ اور خطے کی سیاست پر اثرات
سعودی عرب کی زرعی شعبے میں دلچسپیرانا تنویر حسین نے بتایا کہ سعودی عرب پاکستانی زرعی مصنوعات، چاول، گوشت، مکئی، تل اور خشک اونٹنی کے دودھ میں سرمایہ کاری اور تجارت کا خواہاں ہے۔ لائیو اسٹاک اور کنٹریکٹ فارمنگ میں بھی تعاون پر بات چیت ہوئی ہے۔
سعودی حکام نے مختلف منصوبوں کے لیے دسمبر 2025 تک ٹائم لائنز مقرر کر دی ہیں، تاکہ سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کو جلد عملی شکل دی جا سکے۔
سی پیک کا دوسرا مرحلہ اور زرعی ترقیوزیر نے بتایا کہ سی پیک فیز ٹو میں زراعت کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی، جس میں جدید زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، انفراسٹرکچر اور کسانوں کی تربیت شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب سے باہمی مفادات کا خیال رکھنے کی توقع ہے، بھارت کا پاک سعودی معاہدے پر ردعمل
جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا سسٹمپاکستان اس وقت بروقت اور درست زرعی ڈیٹا سے محروم ہے۔ چین کے تعاون سے سیٹلائٹ سسٹم اور جدید ڈیٹا کلیکشن سے یہ مسئلہ حل کیا جائے گا تاکہ پیداوار اور فوڈ سیکیورٹی سے متعلق فیصلے بہتر انداز میں کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :