یورپی ملک لکسمبرگ کے نئے بادشاہ گرینڈ ڈیوک گیوم نے جمعے کو تخت سنبھال لیا۔ ان کے والد گرینڈ ڈیوک ہنری 245 برس بادشاہ رہنے کے بعد رضاکارانہ طور پر اپنے عہدے سے دستبردار ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کے پہلے بادشاہ اَیتھل اسٹین کو تاریخ نے کیوں بھلا دیا؟

نئے بادشاہ ور پہلی بار گرینڈ ڈیوکل پیلس کی بالکونی سے عوام کے سامنے جلوہ افروز ہوکر ان کو ہاتھ ہلاتے ہوئے خوش آمدید کہا۔

اس تاریخی موقع پر ان کے ساتھ ان کی اہلیہ گرینڈ ڈچیس اسٹیفنی بھی موجود تھیں جنہوں نے پورے وقار سے عوام کا استقبال کیا۔

بادشاہ گیوم کے ساتھ ان کے 2 بچے شہزادہ چارلس اور شہزادہ فرانسوا اور سابق بادشاہ گرینڈ ڈیوک ہنری و ان کی اہلیہ ماریا ٹریسا بھی موجود تھے جنہوں نے عوام کے جوش و خروش کا دل کھول کر جواب دیا۔

لکسمبرگ کے شاہی خاندان نے اس موقع کی ویڈیو اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی جس کے کیپشن میں صرف ایک لفظ لکھا گیا ’تاریخی‘۔

ویڈیو میں شاہی خاندان کے افراد کو خوش دلی سے ہاتھ ہلاتے اور عوام سے محبت بھرا رابطہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے جو نئے بادشاہ کا جوش و خروش سے خیرمقدم کر رہے تھے۔

مزید پڑھیے: برطانیہ کے اگلے ممکنہ بادشاہ ولیم اپنی سلو موشن ویڈیوز کیوں جاری کر رہے ہیں؟

اس موقع پر گرینڈ ڈیوک گیوم نے خاکی رنگ کی فوجی وردی زیب تن کی جبکہ گرینڈ ڈچیس اسٹیفنی نے لیوینڈر رنگ کے خوبصورت کیپ والے ٹول لباس میں شاہی وقار کا مظاہرہ کیا۔

سابق بادشاہ گرینڈ ڈیوک ہنری نے بھی اپنی فوجی وردی زیب تن کی جس پر ان کے اعزازات و تمغے سجے ہوئے تھے جبکہ ماریا ٹریسا نے جامنی کیپ والے لباس میں انتہائی باوقار انداز میں شرکت کی۔

یہ تخت سے دستبرداری کی تقریب گرینڈ ڈیوک ہنری کی 25 سالہ بادشاہت کے اختتام کی علامت تھی۔ ہنری نے سال 2000 میں لکسمبرگ کے خودمختار حکمران کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

اس اہم موقع پر لکسمبرگ کے شاہی خاندان کے ساتھ بیلجیئم اور نیدرلینڈز کے شاہی خاندانوں نے بھی شرکت کی جس سے اس تقریب کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔

لکسمبرگ

لکسمبرگ مغربی یورپ کا ایک چھوٹا مگر خوشحال ملک ہے جو بیلجیئم، فرانس اور جرمنی کے درمیان واقع ہے۔

مزید پڑھیں: اپنی شادی پر بادشاہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کے چپکے چپکے آنسو بہانے کا عقدہ کھل گیا

رقبے کے لحاظ سے یہ یورپ کے سب سے چھوٹے ممالک میں شمار ہوتا ہے مگر اقتصادی طور پر یہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہے۔

لکسمبرگ کی حکومت آئینی بادشاہت پر مبنی ہے جس میں بادشاہ کا کردار علامتی اور روایتی ہوتا ہے جبکہ اصل اختیارات منتخب پارلیمنٹ اور وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں۔

3 اکتوبر 2025 کو گرینڈ ڈیوک گیوم نے لکسمبرگ کے نئے بادشاہ کے طور پر تخت سنبھالا۔ ان کی عمر اس وقت 43 سال ہے اور وہ سابق بادشاہ گرینڈ ڈیوک ہنری کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔

نئے بادشاہ کے والد گرینڈ ڈیوک ہنری نے سنہ 2000 میں بادشاہت سنبھالی تھی اور 25 سال بعد رضاکارانہ طور پر تخت سے دستبردار ہو گئے جس کے بعد ان کے بیٹے گیوم نے ملک کی بادشاہت سنبھالی۔

یہ بھی پڑھیے: حقیقی زندگی میں طلسماتی کہانی جیسا سماں باندھتی مشہور شاہی شادیاں

بادشاہ گیوم نے اعلیٰ تعلیم یورپ کے نامور اداروں سے حاصل کی ہے اور وہ طویل عرصے سے شاہی ذمہ داریوں میں فعال کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

لکسمبرگ لکسمبرگ بادشاہ گرینڈ ڈیوک گیوم لکسمبرگ کے نئے بادشاہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: لکسمبرگ لکسمبرگ کے نئے بادشاہ لکسمبرگ کے نئے بادشاہ گیوم نے

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار