حماس اتوار کی شام تک معاہدہ قبول کرلے ورنہ سب مارے جائیں گے، ٹرمپ کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو اتوار کی شام 6 بجے تک معاہدہ کرنے کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ معاہدہ ہوا تو حماس کے جنگجوؤں کی جان بچ جائے گی ورنہ سب مارے جائیں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس مشرق وسطیٰ میں کئی سال سے ایک بے رحم اور پرتشدد خطرہ رہا ہے، حماس نے 7 اکتوبر 2023ء کو کئی اسرائیلی بچوں، بزرگوں، خواتین اور مردوں کو ہلاک کیا، 7 اکتوبر کے حماس کے حملے کے جواب میں اب تک حماس کے 25 ہزار جنگجو مارے جاچکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بہت ساری افواج صرف میرے اجازت نامے کی منتظر ہیں کہ جائیں اور انہیں ختم کریں، ہم جانتے ہیں حماس کے جنگجو کون ہیں اور کہاں ہیں، وہ مارے جائیں گے، تمام بے گناہ فلسطینی فوری طور پر غزہ کے سیف زون منتقل ہوجائیں،حماس امن منصوبے پر رضا مند نہ ہوا تو اسے جہنم کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی عظیم اقوام اور امریکا نے اسرائیل کے ساتھ امن منصوبے پر دستخط کیے ہیں، مشرق وسطی میں کسی بھی طرح امن قائم کریں گے، اسرائیل کے زندہ یا مردہ تمام یرغمالیوں کو رہا کیا جائے، معاہدہ کرنے سے حماس کے جنگجوؤں کی جان بچ جائے گی، حماس کو اتوار شام 6 بجے سے پہلے معاہدے تک پہنچنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حماس کے
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔