امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنی انتھروپک نے نیا چیف ٹیکنالوجی آفیسر مقرر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
امریکا کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی انتھروپک نے اپنی قیادت میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے راہول پٹیل کو نیا چیف ٹیکنالوجی آفیسر (سی ٹی او) تعینات کر دیا ہے، وہ کمپنی کے شریک بانی سیم میک کینڈلش کی جگہ یہ عہدہ سنبھال رہے ہیں، جو اب چیف آرکیٹیکٹ کی حیثیت سے پری ٹریننگ اور بڑے پیمانے پر ماڈل ٹریننگ پر توجہ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: انتھراپک کا اپنے جدید ماڈل کلاڈ سونیٹ 4.
کمپنی کے ٹیکنیکل اسٹرکچر میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے جس کے تحت پروڈکٹ انجینئرنگ کو انفراسٹرکچر اور انفرنس ٹیموں کے ساتھ شامل کیا جارہا ہے۔ نئے سی ٹی او کی حیثیت سے راہول پٹیل انفراسٹرکچر، انفرنس اور دیگر انجینئرنگ یونٹس کی نگرانی کریں گے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب کمپنی کو میٹا اور اوپن اے آئی جیسے بڑے حریفوں کے انفراسٹرکچر مقابلے کا سامنا ہے۔ میٹا نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ 2028 تک امریکا میں 600 بلین ڈالر تک کے انفراسٹرکچر پر خرچ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک کا نیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈل V3.1 متعارف
دوسری جانب اوپن اے آئی نے اوریکل کے ساتھ بڑے منصوبوں پر اشتراک کیا ہے جن میں اسٹارگیٹ بھی شامل ہے۔ انتھروپک کی اپنی اخراجات کی تفصیلات واضح نہیں لیکن کمپنی کو طاقت، رفتار اور استعمال میں توازن قائم رکھنے کے چیلنجز درپیش ہیں۔
کلود پراڈکٹس کی بڑھتی مانگ کے باعث کمپنی کو جولائی میں ریٹ لِمٹس متعارف کرانا پڑیں۔ اب ہیوی یوزرز کے لیے کلاڈ کوڈ پر 240 سے 480 گھنٹے اور اوپس 4 پر 24 سے 40 گھنٹے فی ہفتہ کی حد مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سورا 2 ریلیز: اوپن اے آئی کا یوٹیوب اور ٹک ٹاک کو پیچھے چھوڑنے کا عزم
راہول پٹیل 20 سالہ تجربے کے حامل ہیں اور انہوں نے اسٹرائپ، اوریکل، ایمازون اور مائیکروسافٹ جیسی عالمی کمپنیوں میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ صدر ڈینیئلا اموڈئی نے ان کی انٹرپرائز انفراسٹرکچر میں کارکردگی کو سراہا، جبکہ پٹیل نے کہا کہ وہ انتھروپک میں شامل ہو کر خوش ہیں اور یہ دور مصنوعی ذہانت کی ترقی کا نہایت اہم مرحلہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انتھروپک ٹیکنیکل اسٹرکچر چیف ٹیکنالوجی آفیسر رہول پٹیل مصنوعی ذہانت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتھروپک مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔