امریکا کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی انتھروپک نے اپنی قیادت میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے راہول پٹیل کو نیا چیف ٹیکنالوجی آفیسر (سی ٹی او) تعینات کر دیا ہے، وہ کمپنی کے شریک بانی سیم میک کینڈلش کی جگہ یہ عہدہ سنبھال رہے ہیں، جو اب چیف آرکیٹیکٹ کی حیثیت سے پری ٹریننگ اور بڑے پیمانے پر ماڈل ٹریننگ پر توجہ دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: انتھراپک کا اپنے جدید ماڈل کلاڈ سونیٹ 4.

5 جاری، دیگر اے آئی ماڈلز کو چیلنج

کمپنی کے ٹیکنیکل اسٹرکچر میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے جس کے تحت پروڈکٹ انجینئرنگ کو انفراسٹرکچر اور انفرنس ٹیموں کے ساتھ شامل کیا جارہا ہے۔ نئے سی ٹی او کی حیثیت سے راہول پٹیل انفراسٹرکچر، انفرنس اور دیگر انجینئرنگ یونٹس کی نگرانی کریں گے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب کمپنی کو میٹا اور اوپن اے آئی جیسے بڑے حریفوں کے انفراسٹرکچر مقابلے کا سامنا ہے۔ میٹا نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ 2028 تک امریکا میں 600 بلین ڈالر تک کے انفراسٹرکچر پر خرچ کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: چینی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک کا نیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈل V3.1 متعارف

دوسری جانب اوپن اے آئی نے اوریکل کے ساتھ بڑے منصوبوں پر اشتراک کیا ہے جن میں اسٹارگیٹ بھی شامل ہے۔ انتھروپک کی اپنی اخراجات کی تفصیلات واضح نہیں لیکن کمپنی کو طاقت، رفتار اور استعمال میں توازن قائم رکھنے کے چیلنجز درپیش ہیں۔

کلود پراڈکٹس کی بڑھتی مانگ کے باعث کمپنی کو جولائی میں ریٹ لِمٹس متعارف کرانا پڑیں۔ اب ہیوی یوزرز کے لیے کلاڈ کوڈ پر 240 سے 480 گھنٹے اور اوپس 4 پر 24 سے 40 گھنٹے فی ہفتہ کی حد مقرر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سورا 2 ریلیز: اوپن اے آئی کا یوٹیوب اور ٹک ٹاک کو پیچھے چھوڑنے کا عزم

راہول پٹیل 20 سالہ تجربے کے حامل ہیں اور انہوں نے اسٹرائپ، اوریکل، ایمازون اور مائیکروسافٹ جیسی عالمی کمپنیوں میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ صدر ڈینیئلا اموڈئی نے ان کی انٹرپرائز انفراسٹرکچر میں کارکردگی کو سراہا، جبکہ پٹیل نے کہا کہ وہ انتھروپک میں شامل ہو کر خوش ہیں اور یہ دور مصنوعی ذہانت کی ترقی کا نہایت اہم مرحلہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news انتھروپک ٹیکنیکل اسٹرکچر چیف ٹیکنالوجی آفیسر رہول پٹیل مصنوعی ذہانت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انتھروپک مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان