اسرائیل کا پروپیگنڈا جھوٹ، کشتیوں میں طبی و خوراکی امداد موجود تھی، گلوبل صمود فلوٹیلا منتظمین
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ فلوٹیلا کی کشتیوں پر غزہ کے لیے کوئی انسانی امداد موجود نہیں تھی، اسرائیلی مؤقف کھلا جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی پراپیگنڈا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق فلوٹیلا کے ترجمان نے کہا کہ فلوٹیلا کی تمام کشتیاں مکمل طور پر دستاویزی طور پر ثابت شدہ ادویات، خوراک اور دیگر زندگی بچانے والی اشیاء سے بھری ہوئی تھیں۔
منتظمین کے مطابق متعدد صحافیوں، انسانی حقوق کے نمائندوں، پارلیمنٹیرینز اور امدادی تنظیموں نے کشتیوں پر موجود امدادی سامان کی موجودگی کی تصدیق بھی کر دی ہے۔
فلوٹیلا کے مطابق اسرائیل دراصل ایک منظم جھوٹا پروپیگنڈا چلا رہا ہے تاکہ غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی کوششوں کو بدنام کیا جا سکے اور دنیا کی نظر اپنی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے ہٹائی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی اسرائیل نے اسپتالوں پر بمباری، قافلوں کی راہ میں رکاوٹ، اور امدادی کارکنوں کے قتل جیسے واقعات کی تردید کی، مگر بعد میں اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد صحافیوں نے ان الزامات کو درست ثابت کیا۔
ترجمان کاکہنا تھا کہ اسرائیل کے جھوٹ دہرانا دراصل نسل کشی کو چھپانے میں شراکت داری ہے،” فلوٹیلا کے منتظمین نے کہا، اور عالمی میڈیا پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی دعووں کو تقویت دینا بند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کشتیوں پر امداد محدود تھی، لیکن یہ “نہ صرف حقیقی تھی بلکہ اس بات کی علامت بھی تھی کہ اصل حل صرف ناکہ بندی توڑنے کے بعد ہی ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت بالکل واضح ہے: فلوٹیلا انسانی امداد لے کر جا رہی تھی، غزہ کو دانستہ طور پر بھوکا رکھا جا رہا ہے، اور اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کی کشتیوں پر حملہ کر کے انہیں قبضے میں لے لیا اور 50 ممالک کے تقریباً 470 کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ ان میں انسانی حقوق کے کارکن، سابق سینیٹرز، صحافی اور عالمی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔
اسرائیل گزشتہ 18 برسوں سے غزہ پر ناکہ بندی مسلط کیے ہوئے ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 66 ہزار 300 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ غزہ قحط سالی، ادویات اور طبی سہولیات کی شدید قلت کے باعث رہنے کے قابل نہیں رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: فلوٹیلا کے کشتیوں پر
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ