گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ فلوٹیلا کی کشتیوں پر غزہ کے لیے کوئی انسانی امداد موجود نہیں تھی، اسرائیلی مؤقف کھلا جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی پراپیگنڈا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق  فلوٹیلا کے ترجمان نے  کہا کہ  فلوٹیلا کی تمام کشتیاں مکمل طور پر دستاویزی طور پر ثابت شدہ ادویات، خوراک اور دیگر زندگی بچانے والی اشیاء سے بھری ہوئی تھیں۔

منتظمین کے مطابق متعدد صحافیوں، انسانی حقوق کے نمائندوں، پارلیمنٹیرینز اور امدادی تنظیموں نے کشتیوں پر موجود امدادی سامان کی موجودگی کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

فلوٹیلا کے مطابق اسرائیل دراصل ایک  منظم جھوٹا پروپیگنڈا  چلا رہا ہے تاکہ غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی کوششوں کو بدنام کیا جا سکے اور دنیا کی نظر اپنی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے ہٹائی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی اسرائیل نے اسپتالوں پر بمباری، قافلوں کی راہ میں رکاوٹ، اور امدادی کارکنوں کے قتل جیسے واقعات کی تردید کی، مگر بعد میں اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد صحافیوں نے ان الزامات کو درست ثابت کیا۔

ترجمان کاکہنا تھا کہ  اسرائیل کے جھوٹ دہرانا دراصل نسل کشی کو چھپانے میں شراکت داری ہے،” فلوٹیلا کے منتظمین نے کہا، اور عالمی میڈیا پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی دعووں کو تقویت دینا بند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کشتیوں پر امداد محدود تھی، لیکن یہ “نہ صرف حقیقی تھی بلکہ اس بات کی علامت بھی تھی کہ اصل حل صرف ناکہ بندی توڑنے کے بعد ہی ممکن ہے۔

 انہوں  نے  مزید کہا کہ  حقیقت بالکل واضح ہے: فلوٹیلا انسانی امداد لے کر جا رہی تھی، غزہ کو دانستہ طور پر بھوکا رکھا جا رہا ہے، اور اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کی کشتیوں پر حملہ کر کے انہیں قبضے میں لے لیا اور 50 ممالک کے تقریباً 470 کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ ان میں انسانی حقوق کے کارکن، سابق سینیٹرز، صحافی اور عالمی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔

اسرائیل گزشتہ 18 برسوں سے غزہ پر ناکہ بندی مسلط کیے ہوئے ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 66 ہزار 300 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ غزہ قحط سالی، ادویات اور طبی سہولیات کی شدید قلت کے باعث رہنے کے قابل نہیں رہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: فلوٹیلا کے کشتیوں پر

پڑھیں:

اسرائیل کے اعتراض کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارہ کا علاقہ اور لبنانی قلعے عالمی ورثے قرار

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی عالمی ورثہ کمیٹی نے اسرائیل کے اعتراضات کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی مقام سبسطیہ اور جنوبی لبنان کے جبل عامل خطے کے پانچ تاریخی قلعوں کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں مقامات کو ساتھ ہی خطرے سے دوچار عالمی ورثہ کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

اسرائیل نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام سیاسی نوعیت کا ہے، اور خاص طور پر لبنان کے بیوفورٹ قلعہ کے حوالے سے سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب فلسطینی اور لبنانی حکام نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔

یونیسکو کی کمیٹی نے لبنان کے قدیم شہر صور کو بھی تنازع اور ممکنہ نقصان کے خدشات کے باعث خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کے اعتراض کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارہ کا علاقہ اور لبنانی قلعے عالمی ورثے قرار
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم