نئی کنٹر بیوٹری پنشن فنڈ اسکیم متعارف،نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک :وفاقی حکومت نےپنشن اخراجات کے بوجھ میں کمی کے مشن سےمتعلق نئی کنٹری بیوٹری پنشن فنڈ اسکیم نافذ کر دی،نئے نظام کے تحت مجموعی طور پر 22 فیصد پنشن فنڈ میں جمع ہوگا۔
نئی کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم کے نفاذکا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا،وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کےمطابق نئےنظام کےتحت مجموعی طورپر 22 فیصد پنشن فنڈمیں جمع ہوگا،وفاقی ملازمین پنشن کےلیےاپنی تنخواہ کا 10 فیصد جمع کرائیں گے،حکومت کی جانب سے 12فیصد کنٹری بیوشن دی جائے گی۔
’’پاکستانی محمدرفیع ‘‘مسعودراناکی آوازکاسحر30برس بعد بھی برقرار
وزارت خزانہ کےمطابق حکومت نے نئےپنشن فنڈ کے لیے 10ارب روپےمختص کر دیئے،پنشن واجبات 25-2024 میں 10 کھرب 55 ارب روپےتک جا پہنچے،مسلح افواج کےپنشن اخراجات 26-2025 میں 742 ارب روپے ہو جائیں گے،ملازمین ریٹائرمنٹ سےقبل پنشن اکاؤنٹ سے رقم نہیں نکال سکیں گے،ریٹائرمنٹ پر اکاؤنٹ سے 25 فیصد رقم نکالنے کی اجازت ہوگی۔
نوٹیفکیشن کےمطابق موجودہ سرکاری ملازمین پر نیا نظام لاگو نہیں ہوگا،نیا پنشن سسٹم یکم جولائی 2024 کےبعد بھرتی ملازمین پر لاگو ہوگا،مسلح افواج کے اہلکاروں پر نفاذ یکم جولائی 2025 سے متوقع ہے۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سزاؤں میں سختی، بھاری جرمانے
وزارت خزانہ کےمطابق وزارت خزانہ پنشن فنڈ کےلیےنان بینکنگ فنانس کمپنی قائم کرے گی،نظام عالمی مالیاتی اداروں بالخصوص ورلڈ بینک کے مشورے سے متعارف کرایا.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔