عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان ہونے والا معاہدہ حکومت کے خلوص، کشمیری عوام سے وابستگی اور امن کے عزم کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وہ نکات جنہوں نے آزاد کشمیر مذاکرات کامیاب بنائے

حکام کے مطابق یہ معاہدہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ تصادم نہیں بلکہ مکالمہ ہی کشمیری کاز کو مضبوط کرتا ہے۔

حکومت کا رویہ

حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقیقی خیرخواہ ہیں، اور ہر مرحلے پر مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔

معاہدے کا عکس

3 اکتوبر کے سانحات کے بعد بھی ریاست نے تحمل اور خلوص کے ساتھ مکالمے کا راستہ اپنایا تاکہ عوامی جان و مال محفوظ رہ سکے۔

قیادت کا کردار

وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کی قیادت میں طے پانے والے اس معاہدے کو خلوص، سنجیدگی اور قومی جذبے کا عملی مظہر کہا جا رہا ہے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق کشمیری کاز تصادم یا سیاست نہیں بلکہ استحکام، انصاف اور ترقی سے مضبوط ہوگا۔

عوامی ریلیف کے اقدامات

معاہدہ عوامی ریلیف پر مبنی ہے جس کے تحت سستا آٹا، سستی بجلی، صحت کارڈ کی بحالی اور متاثرین کے لیے یکساں معاوضہ شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کامیاب مذاکرات و معاہدہ آزاد کشمیر کے عوام، پاکستان اور جمہوریت کی جیت ہے، احسن اقبال

صحت اور تعلیم میں بھی انقلابی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن میں ہر ضلع میں MRI اور CT اسکین مشینوں کی فراہمی، صحت انشورنس کی بحالی اور نئے تعلیمی بورڈز کا قیام شامل ہے تاکہ کشمیری طلباء کو ملک بھر کے برابر مواقع مل سکیں۔

گورننس ریفارمز

گورننس ریفارمز کے تحت چھوٹی کابینہ، کم بیوروکریسی، غیر ضروری اداروں کا خاتمہ اور عوامی ٹیکس کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔

ترقیاتی منصوبے

10 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کے ذریعے بجلی کے نظام، سڑکوں، پلوں، سرنگوں اور ہوائی اڈوں میں سرمایہ کاری ہوگی، جس سے روزگار کے مواقع بڑھنے اور معیشت کے مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

انصاف اور شفافیت

معاہدے میں انصاف کے پہلو کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جس کے تحت مظاہرین اور سرکاری اہلکاروں دونوں کو یکساں معاوضہ دیا جائے گا۔

شفاف نگرانی کے لیے ایک 15 روزہ جائزہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وفاق، آزاد کشمیر اور عوامی ایکشن کمیٹی شامل ہوگی، اور یہ کمیٹی ہر پیشرفت عوام کے سامنے شفاف انداز میں پیش کرے گی۔

امن اور کشمیری کاز

معاہدے کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ کشمیر کی ترقی اور کشمیری کاز کا دفاع صرف امن سے ممکن ہے۔

حکام کے مطابق آزاد کشمیر میں اسکول، انٹرنیٹ اور ٹرانسپورٹ کی بحالی اس بات کا ثبوت ہے کہ خلوصِ نیت اور مذاکرات کے ذریعے امن واپس لایا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی معاہدہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایکشن کمیٹی معاہدہ ایکشن کمیٹی کشمیری کاز

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب کشمیر کے وارث آگئے ہیں، مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے مخالف جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخالفین کی دوڑیں لگ گئی ہیں اور کانپیں ٹانگ رہیں لیکن اب کشمیر کے اصل وارث کشمیر آگئے ہیں۔

آزاد کشمیر میں انتخابی مہم کے سلسلے میں میرپور میں مسلم لیگ (ن) کے جلسے سے خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ میرپور کی گھن گرج بتا رہی ہے شیر آ نہیں رہا شیر آچکا ہے، مظفر آباد میں ہزاروں افراد نے بارش میں کھڑے ہو کر نواز شریف کی تقریر سنی جبکہ آج میرپور میں گرمی کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں میرپور باہر آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کے مخالفین کی دوڑیں بتا رہی ہیں، ان کی جو کانپیں ٹانگ رہی ہیں وہ بتا رہی ہیں، وہ خود بول رہی ہیں کہ مسلم لیگ(ن) نے آزاد کشمیر کی بازی آزاد کشمیر کے عوام کی مدد سے جیت لی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مظفر آباد جلسےمیں کہا میں کشمیر کی بیٹی ہوں تو لوگوں کو اس کی اتنی تکلیف ہوئی، جو نسلاً، خون اور خاندان اور دل سے کشمیری، سوچ سے کشمیری، دماغ اور روح سے کشمیری ہو تو اس کو کشمیری نہ کہوں تو کیا کہوں، میں آج میرپور یا کشمیر نہیں اپنے باپ دادا کے گھر آئی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ مریم کی والدین، دادا دادی اور نانا نانی بھی کشمیری ہیں اور محاورتاً نہیں خون سے کشمیری ہیں، آپ کے جذبے میں نظر آرہا ہے کہ اب کشمیر کے اصل وارث کشمیر آگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں آج جب میرپور آئی تو ایسا لگا سب خوب صورت، بہترین اور مہنگے گھر یہاں بنے ہیں لیکن میں نے دیکھا ان گھروں تک پہنچنے کے لیے سڑک ٹوٹی ہوئی ہے یا ہے ہی نہیں، جس شہر نے ملک کو روشن کیا اب اس شہر کے چراغ جلنے کی باری نہیں ہے، آپ نے ملک کو روشن کیا اب وقت آگیا ہے کہ میرپور میں بھی ترقی اور روشنی کے چراغ جلیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کو جنت نظر کہتے ہیں اور یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے، وسائل ہیں، سیاحت کا محکمہ اٹھائیں تو آزاد کشمیر کا ہر گھر امیر ہوسکتا ہے، ہر سڑک تعمیر ہوسکتی ہے، ہر شہری کو علاج، ہر بچے کو اسکول، ہر آبادی کو علاج اور ہر بستی کو گرین بس چل سکتی ہے اگر کمی ہے تو نواز شریف کی جیسی حکومت کی کمی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ نواز شریف نے میرپور میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنانے کا کہا تو دنیا جانتی ہے نواز شریف ان شااللہ ایئرپورٹ بنا کر دم لے گا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں وسائل کی کمی نہیں ہے، کشمیر میں جذبے کی کمی نہیں ہے، اگر کمی ہے تو بہتر انفرا اسٹرکچر، بہترین اسپتالوں، میٹرو بس، گرین بس اورنج لائن کی کمی ہے، اپنی چھت اپنا گھر کی کمی ہے، نواز شریف اسکولوں، اچھے اسپتالوں کی کمی ہے، پورے آزاد کشمیر کو سیف سٹی بنانے، کسان کارڈ، ہمت کارڈ اور ستھرا پنجاب کی طرح ستھرا کشمیر کی کمی ہے اور سب سے بڑھ کر اس نیت کی کمی ہے جو باتیں نہیں کام کرتی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ جو 10،10 اور 15 سال سے بیٹھے ہیں لیکن اگر ڈھائی سال میں پنجاب میں اتنے کام ہوسکتے ہیں تو 5 سال میں کشمیر پنجاب سے آگے نکل سکتا ہے، کوئی اور جماعت بتا دے ایک منصوبہ تو چھوڑیں کسی نے کشمیر میں ایک اینٹ بھی لگائی ہو اور جب کرسی لینی ہو اور حکومت بنانی ہوتی ہے تو اپنا نام لیتے ہیں لیکن جب کام کرنا ہو تو کہتے ہیں وفاقی حکومت کام کرے، اگر کام وفاقی حکومت کو کرنا ہے تو پھر آپ کو ووٹ کیوں چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میں یاد دہانی کرانا چاہتی ہوں کہ جس سڑک سے چل کر وہ آزاد کشمیر آتے ہیں وہ سڑک بھی نواز شریف نے بنائی ہے، آزاد کشمیر کے لیے مسلم لیگ(ن) کا یہی وعدہ ہے جو سہولیات ہم پنجاب کو دے رہے ہیں وہ الیکشن جیت کر ایک دن ضائع کیے بغیر وہ سہولیات ہم آزاد کشمیر کو دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی انتخابات ہوئے نہیں لیکن میرپور کے لیے 10 الیکٹرک بسوں کا تحفہ لے کر آئی ہوں، پنجاب میں دو سال کے اندر دو لاکھ افراد کو اپنی چھت اپنا گھر مل چکا ہے، جن کے پاس زمین نہیں ہے ان ہزاروں افراد کو 5 مرلہ زمین ایک پیسے کے بغیر دی گئی ہے اور وہ مالک بن گئے ہیں، پنجاب میں سرکار کی دو لاکھ ایکڑ زمین غریبوں کو دی تاکہ وہ اپنی روزگار کا سلسلہ شروع کرسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب کشمیر کے وارث آگئے ہیں، مریم نواز
  • مسلم لیگ ن کو موقع ملا تو میرپور اور پورے آزاد کشمیر کی تقدیر بدلیں گے : نواز شریف
  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع