ہم غزہ میں جنگ بندی کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، اردن، مصر اور انڈونیشیا کی قیادت کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ سے ملاقات کی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جب سے فلسطینی عوام کی نسل کشی شروع کی گئی ہے، آج ہم جنگ بندی کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے فلسطینی عوام کیساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی ان کا ساتھ دیتا رہے گا۔ وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، اردن، مصر اور انڈونیشیا کی قیادت کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ سے ملاقات کی۔ اپنے پیغام میں شہباز شریف نے کہا کہ حماس کی جانب سے جاری کردہ بیان جنگ بندی کیلئے اُمید کی کرن ہے اور امن قائم کرنے کیلئے ایک ایسا راستہ فراہم کرتا ہے جسے دوبارہ بند نہیں ہونا چاہیے۔وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان شاء اللہ پاکستان اپنے تمام دوست اور برادر ممالک کیساتھ مل کر فلسطین میں مستقل امن کے قیام کیلئے کوششیں جاری رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔