برطانیہ: زور سے جمائی لینے کے دوران خاتون کی گردن ٹوٹ گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: برطانیہ میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون کی گردن اس وقت متاثر ہوئی جب انہوں نے غیر معمولی زور سے جمائی لی۔ اس واقعے کو عام طور پر “گردن ٹوٹنے” کے طور پر بیان کیا جارہا ہے، تاہم دراصل خاتون کی گردن کے دو مہرے اپنی جگہ سے ہٹ گئے جس کے باعث اعصاب پر دباؤ پڑا۔
ہیلی بلیک نامی اس خاتون نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ زور دار جمائی لینے کے دوران ان کے C6 اور C7 مہرے متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں شدید تکلیف اور اعصابی دباؤ کی علامات ظاہر ہوئیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق یہ نہایت نادر واقعہ ہے اور عام طور پر جمائی لینے سے ایسا نقصان پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔
ہیلی بلیک کا آپریشن کیا جا چکا ہے جس سے ان کی حالت میں بہتری آئی ہے، تاہم ڈاکٹروں نے واضح کیا ہے کہ گردن کے علاوہ کچھ دیگر حصے بھی متاثر ہوئے ہیں اور اعصاب پر دباؤ کی علامات اب بھی برقرار ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ غیرمعمولی ضرور ہے لیکن یہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ انسانی جسم میں چھوٹی سی حرکت یا دباؤ بھی بعض اوقات حیران کن اور غیر متوقع نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔