کرناٹک حکومت جی ایس ٹی نقصان پر عدالت جائے گی، سدارامیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیراعلٰی نے مودی حکومت کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ آئندہ بہار انتخابات سے متاثر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست کرناٹک کے وزیراعلٰی سدارامیا نے کہا کہ جی ایس ٹی کو آسان بنانے سے ریاست کو 15,000 کروڑ روپے کا تخمینہ نقصان اٹھانا پڑے گا اور وہ مودی حکومت سے اس رقم کی وصولی کے لئے قانونی کارروائی کا سہارا لے گی۔ اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلٰی سدارامیا نے مودی حکومت کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ آئندہ بہار انتخابات سے متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فنڈز کی وصولی کے لئے قانونی کارروائی کا سہارا لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2017ء میں طے کی گئی جی ایس ٹی کی شرح گزشتہ آٹھ سالوں میں حد سے زیادہ تھیں۔
انہوں نے سوال کیا "کیا اب حکومت عوام سے وصول کئے گئے اضافی جی ایس ٹی کو واپس کرے گی، جی ایس ٹی کی شرحوں کو ابھی کم کرنا اور ان انتخابی کٹوتیوں کے لئے خود کو مبارکباد دینا مناسب نہیں ہے"۔ مرکزی گرانٹس میں تاخیر کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ تخمینہ 17,000 کروڑ میں سے صرف 3,200 کروڑ ہی کرناٹک کو جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے اس کا موازنہ اترپردیش سے کیا، جسے مرکزی فنڈز کا 18 فیصد ملتا ہے، جبکہ کرناٹک کو صرف 3.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے نے کہا کہ جی ایس ٹی انہوں نے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔