تابش ہاشمی فلموں کی دنیا میں انٹری کیلئے تیار
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کے تین بڑے نام فہد مصطفیٰ، ماہرہ خان اور تابش ہاشمی پہلی بار ایک ساتھ سلور اسکرین پر جلوہ گر ہونے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ فلم فہد مصطفیٰ کے پروڈکشن ہاؤس بگ بینگ انٹرٹینمنٹ کی پہلی فلم ہوگی، جو اپنے ڈراموں کے بعد اب فلمی میدان میں قدم رکھ رہا ہے جبکہ اس فلم سے تابش ہاشمی اپنا ڈیبیو کریں گے۔
فلم کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ اس کا بنیادی موضوع کامیڈی ہوگا جس میں رومانس کے رنگ بھی شامل کیے گئے ہیں، یوں شائقین کو ایک ہلکی پھلکی اور تفریح سے بھرپور کہانی دیکھنے کو ملے گی۔ فلم کی کہانی بلال عاطف خان نے لکھی ہے جبکہ اس کی ہدایتکاری بھی وہ خود ہی کریں گے۔
فلم کی ریلیز کی ریلیز کے حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں تاہم کہا جارہا ہے کہ جلد ہی اس کی شوٹنگ کا آغاز کردیا جائے گا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔