بھارت، بی جے پی حکومت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات غیر محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
بی جے پی حکومت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات غیر محفوظ ہیں جہاں مودی کی ہندوتوا حکومت نے مسلمانوں کی شناخت، مذہبی روایات اور مذہبی آزادی پر ایک بار پھر وار کرتے ہوئے ریاست اترپردیش کے ضلع سنبھل میں ایک اور مسجد کو شہید کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں آر ایس ایس کی سرپرستی میں قائم بی جے پی حکومت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات غیر محفوظ ہیں جہاں مودی کی ہندوتوا حکومت نے مسلمانوں کی شناخت، مذہبی روایات اور مذہبی آزادی پر ایک بار پھر وار کرتے ہوئے ریاست اترپردیش کے ضلع سنبھل میں ایک اور مسجد کو شہید کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت میں فسطائی مودی حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کیخلاف دہشت گردانہ کارروائیاں جاری ہیں، بھارتی جریدے ”دی ٹیلی گراف انڈیا” کے مطابق بی جے پی کے زیر اقتدار ریاست اتر پردیش میں ضلع سنبھل کے علاقے رائے بزرگ ایک اور مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ یہ گزشتہ چار ماہ میں ضلع سنبھل میں مسجد شہید کرنے کا دوسرا واقعہ ہے۔ مسجد کو بھارتی پیراملٹری اور پولیس کی بھاری نفری کی نگرانی میں شہید کیا گیا۔ دی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مقامی افراد کا موقف ہے کہ مسجد تقریبا 10سال پہلے تعمیر کی گئی تھی، ضلع سنبھل کی انتظامیہ نے انسداد تجاوزارت کے نام پر مسجد کو مسمار کر دیا۔ کچھ عرصہ پہلے رضاِ مصطفی مسجد کو بھی سنبھل انتظامیہ نے گرایا تھا۔ اس سے قبل اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مسجد کو گرانے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ رام مندر کی تعمیر کے بعد ضلع ایودھیا ترقی اور روحانیت سے آگے بڑھ رہا ہے اور ضلع سنبھل کو بھی کاشی اور ایودھیا شہر کی طرح بنایا جائے گا۔ یوگی آدتیہ ناتھ آر ایس ایس کے نظریے کے مطابق گجرات کے قتل عام کو پھر سے دہرانا چاہتا ہے۔بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے مساجد گرانا مودی کی متعصبانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ مودی کی ہندوتوا حکومت مسلمانوں کی شناخت، مذہبی روایات اور مذہبی آزادی پر مسلسل حملے کر رہی ہے۔ مسلمانوں کی شناخت مٹانے کی سرکاری کوشش بھارتی سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلمانوں کی شناخت ضلع سنبھل بی جے پی مودی کی مسجد کو شہید کر کر دیا
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔