بی جے پی حکومت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات غیر محفوظ ہیں جہاں مودی کی ہندوتوا حکومت نے مسلمانوں کی شناخت، مذہبی روایات اور مذہبی آزادی پر ایک بار پھر وار کرتے ہوئے ریاست اترپردیش کے ضلع سنبھل میں ایک اور مسجد کو شہید کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں آر ایس ایس کی سرپرستی میں قائم بی جے پی حکومت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات غیر محفوظ ہیں جہاں مودی کی ہندوتوا حکومت نے مسلمانوں کی شناخت، مذہبی روایات اور مذہبی آزادی پر ایک بار پھر وار کرتے ہوئے ریاست اترپردیش کے ضلع سنبھل میں ایک اور مسجد کو شہید کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت میں فسطائی مودی حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کیخلاف دہشت گردانہ کارروائیاں جاری ہیں، بھارتی جریدے ”دی ٹیلی گراف انڈیا” کے مطابق بی جے پی کے زیر اقتدار ریاست اتر پردیش میں ضلع سنبھل کے علاقے رائے بزرگ ایک اور مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ یہ گزشتہ چار ماہ میں ضلع سنبھل میں مسجد شہید کرنے کا دوسرا واقعہ ہے۔ مسجد کو بھارتی پیراملٹری اور پولیس کی بھاری نفری کی نگرانی میں شہید کیا گیا۔ دی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مقامی افراد کا موقف ہے کہ مسجد تقریبا 10سال پہلے تعمیر کی گئی تھی، ضلع سنبھل کی انتظامیہ نے انسداد تجاوزارت کے نام پر مسجد کو مسمار کر دیا۔ کچھ عرصہ پہلے رضاِ مصطفی مسجد کو بھی سنبھل انتظامیہ نے گرایا تھا۔ اس سے قبل اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مسجد کو گرانے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ رام مندر کی تعمیر کے بعد ضلع ایودھیا ترقی اور روحانیت سے آگے بڑھ رہا ہے اور ضلع سنبھل کو بھی کاشی اور ایودھیا شہر کی طرح بنایا جائے گا۔ یوگی آدتیہ ناتھ آر ایس ایس کے نظریے کے مطابق گجرات کے قتل عام کو  پھر سے دہرانا چاہتا ہے۔بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے مساجد گرانا مودی کی متعصبانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ مودی کی ہندوتوا حکومت مسلمانوں کی شناخت، مذہبی روایات اور مذہبی آزادی پر مسلسل حملے کر رہی ہے۔ مسلمانوں کی شناخت مٹانے کی سرکاری کوشش بھارتی سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مسلمانوں کی شناخت ضلع سنبھل بی جے پی مودی کی مسجد کو شہید کر کر دیا

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا