بی جے پی کی اسلام دشمنی میں شدت، ضلع سنبھل میں ماہ کے دوران دوسری مسجد شہید
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
بھارت میں آر ایس ایس کے نظریے پر چلنے والی مودی حکومت کے دور میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات ایک بار پھر نشانے پر ہیں۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ایک 10 سال پرانی مسجد کو انتظامیہ نے تجاوزات کا الزام لگا کر مسمار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت: 185 سال پرانی مسجد کا ایک حصہ منہدم کردیا گیا
عینی شاہدین کے مطابق، رائے بزرگ گاؤں میں مسجد کو فوجی دستے اور بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں گرایا گیا، جس سے مقامی آبادی میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔
بھارتی اخبار دی ٹیلی گراف انڈیا نے انکشاف کیا کہ یہ واقعہ گزشتہ 4 ماہ میں دوسری مسجد کی مسماری ہے۔ اس سے قبل رضائے مصطفیٰ مسجد کو بھی ضلعی انتظامیہ نے انہی وجوہات کے تحت منہدم کیا تھا۔
’سنبھل کو کاشی اور ایودھیا کی طرز پر بنایا جائے گا‘
اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پہلے ہی عندیہ دیا تھا کہ رام مندر کی تعمیر کے بعد ایودھیا ترقی اور روحانیت کا مرکز بن چکا ہے، اب سنبھل کو بھی کاشی اور ایودھیا کی طرز پر تیار کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان دراصل مسلم شناخت مٹانے کے ایجنڈے کی طرف واضح اشارہ ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق، یوگی آدتیہ ناتھ اور نریندر مودی کی حکومت، آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔
مساجد کی مسماری اور مذہبی مقامات پر حملے، ریاستی سرپرستی میں جاری اسلام دشمن مہم کا تسلسل ہیں۔
تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ اقدامات بھارتی سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایودھیا بی جے پی ضلع سنبھل مسجد مسجد شہید مودی یوگی آدتیہ ناتھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بی جے پی ضلع سنبھل مسجد مسجد شہید یوگی ا دتیہ ناتھ
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔