اسلام ٹائمز: مقررین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنے اور بداعتمادی کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ مکالمہ ہے، یہ عمل صرف ایک دن یا ایک اجلاس تک محدود نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اسکولوں، کالجوں اور عوامی سطح پر جاری رہنا چاہیئے, تاکہ آنے والی نسلیں انسانیت، امن اور رواداری کے اصولوں کیساتھ پروان چڑھیں۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: جاوید عباس رضوی

اسلامک ریلیف اینڈ ریسرچ ٹرسٹ کشمیر کے زیراہتمام ٹیگور ہال سرینگر میں ایک اہم بین المذاہب ڈائیلاگ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کانفرنس ہندو اور مسلمانوں کے مختلف تہواروں کے موقع پر منعقد ہوا, جس میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں، اسکالروں اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کی قیادت میر واعظ وسطی کشمیر سید عبد اللطیف بخاری نے کی جبکہ اس کا باقاعدہ افتتاح مفتی اعظم جموں و کشمیر مفتی ناصر الاسلام نے کیا۔ پروگرام کے آغاز پر ٹرسٹ کے چیئرمین ایڈووکیٹ عبدالرشید ہانجورا نے تمام شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈائیلاگ کا مقصد مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر باہمی گفتگو، افہام و تفہیم اور احترام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنے اور بداعتمادی کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ مکالمہ ہے، یہ عمل صرف ایک دن یا ایک اجلاس تک محدود نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اسکولوں، کالجوں اور عوامی سطح پر جاری رہنا چاہیئے، تاکہ آنے والی نسلیں انسانیت، امن اور رواداری کے اصولوں کے ساتھ پروان چڑھیں۔

تقریب میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے بھی اپنے خیالات پیش کئے۔ مفتی ناصر الاسلام فاروقی نے کہا کہ مذہب انسانوں کو جوڑنے اور خدمتِ خلق کا پیغام دیتا ہے، تنوع ہماری طاقت ہے، کمزوری نہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سکھ رہنماء جگموہن سنگھ رینہ نے کہا کہ تمام مذاہب ہمدردی اور شفقت کی تعلیم دیتے ہیں، اس پیغام کو نچلی سطح تک پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اس دوران عیسائی پادری ڈاکٹر فلپ جان نے زور دیا کہ بچوں کو امن، بھائی چارے اور بقائے باہمی کی تعلیم اسکولوں اور کالجوں میں دی جانی چاہیئے۔ پروفیسر رتن لال ہنگلو (سابق وائس چانسلر امریکہ) نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت اس کا تنوع ہے اور ایسے مکالمے ہماری یکجہتی کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

پروگرام میں دیگر نمایاں مقررین میں ڈاکٹر مظہر حسین (حیدرآباد)، ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی، مولانا شوکت حسین کینگ، PSAJK کے صدر جی این وار، میر امتیاز آفریں، شیخ فردوس علی، ڈاکٹر شگفتہ راتھر اور فیاض احمد اندرابی شامل تھے۔ تقریب میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر وحید رضا نے انجام دیئے۔ آخر میں تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین المذاہب ڈائیلاگ کو باقاعدہ اور مسلسل جاری رہنا چاہیئے، نہ صرف بڑے اجتماعات میں بلکہ مقامی سطح پر بھی۔ اجلاس کا اختتام اس عہد کے ساتھ ہوا کہ سب مل کر امن، بھائی چارے اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں گے اور تقسیم کی سیاست کے شکار نہیں ہوں گے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک