کراچی میں کمسن بچی کیساتھ زیادتی کا واقعہ، 70 سالہ شخص گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
پولیس افسر کے مطابق والد اپنے داماد کے ہمراہ موقع پر پہنچا تھا اور والد نے فوری مدد گار 15 پولیس کو اطلاع کر دی تھی، جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملزم کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ شر قائد میں 7 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم کو شہریوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق لانڈھی بادل گوٹھ میں کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم کو شہریوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ ایس ایچ او شرافی گوٹھ قمر عباس کے مطابق بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ ہفتے کی شب پیش آیا تھا، علاقہ مکینوں نے بادل گوٹھ علی گارڈن کے قریب سنسان جگہ سے 7 سالہ بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والے 65 سے 70 سالہ معشوق نامی ملزم کو پکڑا تھا اور علاقہ مکینوں نے متاثرہ بچی کے والد کو اطلاع کر دی تھی۔
پولیس افسر کے مطابق والد اپنے داماد کے ہمراہ موقع پر پہنچا تھا اور والد نے فوری مدد گار 15 پولیس کو اطلاع کر دی تھی، جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملزم کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کر دیا۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ گرفتار ملزم کے خلاف متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تفتیش انویسٹی گیشن پولیس کے سپرد کر دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زیادتی کا کے مطابق ملزم کو کر دیا
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک