سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کھیلنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ نوجوانوں کو موقع دینا چاہیے انکا وقت ہے پاکستان کے لئے پرفارمنس دیں۔

ویڈیو پیغام میں محمد عامر نے کہا کہ فیصلہ حتمی ہے، پاکستان کی طرف سے کھیلنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے، نوجوانوں کو موقع دینا چاہیے۔ ورلڈ کپ آرہا ہے یہی نوجوان اچھا کھیلیں اور فائنل جیتیں۔ انکا وقت ہے پاکستان کے لئے پرفارمنس دیں۔

محمد عامر کا مزید کہنا تھا کہ سرفراز احمد کو سلیکشن کمیٹی میں لانے کا فیصلہ اچھا ہوسکتا ہے، سرفراز احمد کے ہونے سے لڑکوں کا مورال اچھا ہوسکتا ہے۔ چیف سلیکٹر کے روول میں سرفراز احمد سے پی سی بی کو فائدہ ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے سسٹم میں کرکٹرز کو ہی ہونا چاہیے، عمر گل، شعیب اختر سہیل تنویر کو وائٹ بال کرکٹ کو سدھارنے کا موقع دینا چاہیے، یونس خان کو سسٹم میں لانا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ