بھارت کی طرف سے کسی ایڈونچر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ آصف—فائل فوٹو
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے کوئی ایڈونچر خارج از امکان نہیں، لیکن جو بھارت کو نقصان پہنچے گا اس سے متعلق یہ ضرور سوچیں گے۔
’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت شکست خوردہ ہے اور اپنی ساکھ کی بحالی اور اندرونی دباؤ سے نمٹنے کے لیے جارحیت کر سکتا ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ سیاسی طور پر بھارت میں بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے، ہم نے بھارت کو جو نقصان پہنچانا تھا پہنچا دیا، بھارت کے عوام ان سے پوچھ رہے ہیں ملک کے ساتھ کیا کیا ہے، بھارت عالمی سطح پر تنہا ہو رہا ہے، پاکستان کو مختلف ممالک کی طرف سے پزیرائی مل رہی ہے، کچھ کرنے سے پہلے یہ سوچیں گے ضرور کہ مزید نقصان اٹھانا نہ پڑے، بھارت سمجھتا تھا ہمارا کوئی مقابلہ نہیں، یہ خطے کا لیڈر خود کو مانتے تھے۔
غزہ امن منصوبے سے متعلق خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ غزہ میں امن نیتن یاہو کی سیاسی موت ہے، لیکن اس کے باوجود امن منصوبے پر عمل درآمد کی امید ہے۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے کے سوال پر وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی صورت اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حامی نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم کے خلاف مقدمات ہیں، گرفتار ہو جائے گا، دعا کرتا ہوں غزہ میں جلد امن قائم ہو، مشتاق احمد کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار مشتاق احمد اور دیگر کی رہائی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، تعلقات بہت دور کی بات ہے پاکستان نے کسی مرحلے پر اس طرف دیکھا تک نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔