Jasarat News:
2026-07-24@04:36:49 GMT

یوم مزدور اور مزدور مسائل

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کی پہلی لیبر پالیسی 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بنائی گئی اور اس میں طے کیا گیا تھا کہ ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کے دن کے طور پر منایا جائے گا اور اس روز سرکاری تعطیل ہو گی۔میں 1973 میں روزنامہ مساوات میں کام کرتی تھی اور مجھے یاد ہے کہ احفاظ اور ہماری ٹیم نے کتنے جوش و خروش سے یکم مئی کا سپلیمنٹ نکالا تھا اور شکاگو کے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ اگر ستر کی دہائی کے ان سالوں کے مساوات کے یکم مئی کے شماروں کے مضامین جمع کر لیے جائیں تو ایک کتاب تیار ہو جائے۔ 1973 کے آئین میں مزدوروں کو درج ذیل حقوق دیے گئے ہیں۔ آئیں کے آرٹیکل 11 کے مطابق غلامی، جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کو ممنوع قرار دیا گیا ہے لیکن غربت اور تعلیم نہ ہونے کے باعث آج بھی بچے مختلف طرح کی مشقت کرتے نظر آتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی بچیاں امیروں کے گھروں میں نوکریاں کرتی ہیں جہاں معمولی سے قصور پر ان پر اتنا تشدد کیا جاتا ہے کہ وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ گھریلو ملازمائوں کے حقوق کے لیے کوئی قانون موجود نہیں۔ دوسری طرف ہوم بیسڈ ورکرز کے لیے قانون تو بن گیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت سب کارکنوں کو یونین اور ایسوسی ایشن بنانے کا حق ہے۔ آرٹیکل 18 کے مطابق ہر شہری کو کوئی بھی قانونی پیشہ یا کاروبار کا حق حاصل ہے۔ آرٹیکل 25 کے مطابق بلا امتیاز جنس قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ آرٹیکل 37 e کے مطابق حالات کار کو سازگار بنایا جائے اور بچوں اور عورتوں سے ایسے کام نہ کرائے جائیں جو ان کی عمر یا جنس کے لحاظ سے موزوں نہ ہوں۔ملازمت کر ے والی عورتوں کو زچگی کے فوائد،میٹرنٹی بینفٹس دیے جائیں۔ ان کے بچوں کے لیے ڈے کئیر سینٹر بنائے جائیں اور شیر خوار بچوں کو دودھ پلانے کے لیے جگہ کا انتظام کیا جائے۔ اس وقت غریبوں کا جو حال ہے اس کے بارے میں میر تقی میر کہہ گئے ہیں: امیر زادوں سے دلی کے مت ملا کر میر۔کہ ہم غریب ہوئے ہیں ان ہی کی دولت سے۔ اور اس عہد کے ایک شاعر فاضل جمیلی نے کہا ہے: کھونا ہے اور کیا ہمیں زنجیر کے سوا۔پانے کو اک جہان تمنا ہے سامنے۔یوم مئی پر ہمیں مزدوروں کے ساتھ کسانوں اور ہاریوں کی بھی بات کرنی چاہیے۔ جام ساقی کے بقول صنعتی مزدوروں کے لیے تو قوانین بن گئے ہیں۔ یہ اور بات کہ ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا لیکن کسانوں اور ہاریوں کو تو اپنے مسائل کا بھی علم نہیں۔جب انہیں رات 3 بجے بلایا جاتا ہے کہ کھیتوں میں پانی لگانا ہے تو انہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں نائٹ الائونس ملنا چاہیے۔ جب کٹائی کا موسم آتا ہے تو ان کی مائیں، بہنیں، بچے شب کھیتوں میں مل کر کام کرتے ہیں۔ اس زائد افرادی قوت کا انہیں کوئی صلہ نہیں ملتا۔ کھیتوں میں سانپ کاٹ لے تو کوئی طبی سہولت نہیں ملتی ، اس لیے دیہاتوں میں جا کے کام کرنا ضروری ہے۔ یوم مئی کے بارے میں اپنی بات کا اختتام میں جون ایلیا کے اس شعر پر کرتی ہوں: یہی پوچھا کیا آج میں دن بھر۔ہر انسان کو روٹی ملی کیا؟۔

مہناز رحمان گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق ا رٹیکل کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف