Jasarat News:
2026-06-03@07:56:24 GMT

یوم مزدور اور مزدور مسائل

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کی پہلی لیبر پالیسی 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بنائی گئی اور اس میں طے کیا گیا تھا کہ ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کے دن کے طور پر منایا جائے گا اور اس روز سرکاری تعطیل ہو گی۔میں 1973 میں روزنامہ مساوات میں کام کرتی تھی اور مجھے یاد ہے کہ احفاظ اور ہماری ٹیم نے کتنے جوش و خروش سے یکم مئی کا سپلیمنٹ نکالا تھا اور شکاگو کے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ اگر ستر کی دہائی کے ان سالوں کے مساوات کے یکم مئی کے شماروں کے مضامین جمع کر لیے جائیں تو ایک کتاب تیار ہو جائے۔ 1973 کے آئین میں مزدوروں کو درج ذیل حقوق دیے گئے ہیں۔ آئیں کے آرٹیکل 11 کے مطابق غلامی، جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کو ممنوع قرار دیا گیا ہے لیکن غربت اور تعلیم نہ ہونے کے باعث آج بھی بچے مختلف طرح کی مشقت کرتے نظر آتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی بچیاں امیروں کے گھروں میں نوکریاں کرتی ہیں جہاں معمولی سے قصور پر ان پر اتنا تشدد کیا جاتا ہے کہ وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ گھریلو ملازمائوں کے حقوق کے لیے کوئی قانون موجود نہیں۔ دوسری طرف ہوم بیسڈ ورکرز کے لیے قانون تو بن گیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت سب کارکنوں کو یونین اور ایسوسی ایشن بنانے کا حق ہے۔ آرٹیکل 18 کے مطابق ہر شہری کو کوئی بھی قانونی پیشہ یا کاروبار کا حق حاصل ہے۔ آرٹیکل 25 کے مطابق بلا امتیاز جنس قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ آرٹیکل 37 e کے مطابق حالات کار کو سازگار بنایا جائے اور بچوں اور عورتوں سے ایسے کام نہ کرائے جائیں جو ان کی عمر یا جنس کے لحاظ سے موزوں نہ ہوں۔ملازمت کر ے والی عورتوں کو زچگی کے فوائد،میٹرنٹی بینفٹس دیے جائیں۔ ان کے بچوں کے لیے ڈے کئیر سینٹر بنائے جائیں اور شیر خوار بچوں کو دودھ پلانے کے لیے جگہ کا انتظام کیا جائے۔ اس وقت غریبوں کا جو حال ہے اس کے بارے میں میر تقی میر کہہ گئے ہیں: امیر زادوں سے دلی کے مت ملا کر میر۔کہ ہم غریب ہوئے ہیں ان ہی کی دولت سے۔ اور اس عہد کے ایک شاعر فاضل جمیلی نے کہا ہے: کھونا ہے اور کیا ہمیں زنجیر کے سوا۔پانے کو اک جہان تمنا ہے سامنے۔یوم مئی پر ہمیں مزدوروں کے ساتھ کسانوں اور ہاریوں کی بھی بات کرنی چاہیے۔ جام ساقی کے بقول صنعتی مزدوروں کے لیے تو قوانین بن گئے ہیں۔ یہ اور بات کہ ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا لیکن کسانوں اور ہاریوں کو تو اپنے مسائل کا بھی علم نہیں۔جب انہیں رات 3 بجے بلایا جاتا ہے کہ کھیتوں میں پانی لگانا ہے تو انہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں نائٹ الائونس ملنا چاہیے۔ جب کٹائی کا موسم آتا ہے تو ان کی مائیں، بہنیں، بچے شب کھیتوں میں مل کر کام کرتے ہیں۔ اس زائد افرادی قوت کا انہیں کوئی صلہ نہیں ملتا۔ کھیتوں میں سانپ کاٹ لے تو کوئی طبی سہولت نہیں ملتی ، اس لیے دیہاتوں میں جا کے کام کرنا ضروری ہے۔ یوم مئی کے بارے میں اپنی بات کا اختتام میں جون ایلیا کے اس شعر پر کرتی ہوں: یہی پوچھا کیا آج میں دن بھر۔ہر انسان کو روٹی ملی کیا؟۔

مہناز رحمان گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق ا رٹیکل کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے