انڈیا کی ناؤ ڈوبنے والی ہے، وہ فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے، ارشد ملک
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ارشد ملک کے مطابق یہ اپنے ملک میں بھی فالس فلیگ آپریشن کر سکتے ہیں، جس کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالیں گے، اسی فالس فلیگ آپریشن کو یہ پاکستان کے اندر بڑھائیں گے۔ اس وقت انڈیا کی ناؤ ڈوبنے والی ہے اور وہ ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ وہ پاکستان کیخلاف غیر مناسب بیانیہ ڈویلپ کر رہے ہیں، جس کے نتائج ان کو بھگتنا پڑیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ایئر مارشل (ر) ارشد ملک کا کہنا ہے کہ انڈیا فالس فلیگ آپریشن ضرور کرے گا، کیونکہ اس کی ناؤ ڈوبنے والی ہے اور وہ ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ بھارت کی طرف سے کسی وقت بھی فالس فلیگ آپریشن ہو سکتے ہیں، یہ اپنے ملک میں بھی فالس فلیگ آپریشن کر سکتے ہیں، جس کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالیں گے، اسی فالس فلیگ آپریشن کو یہ پاکستان کے اندر بڑھائیں گے۔ ارشد ملک کے مطابق اس وقت انڈیا کی ناؤ ڈوبنے والی ہے اور وہ ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ وہ پاکستان کیخلاف غیر مناسب بیانیہ ڈویلپ کر رہے ہیں، جس کے نتائج ان کو بھگتنا پڑیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فالس فلیگ آپریشن سکتے ہیں ارشد ملک
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔