data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا 3 ہزار سالہ تنازع حل کے قریب ہے، اس سلسلے میں جلد خوشخبری ملے گی۔

ورجینیا کے شہر نورفولک میں امریکی نیوی کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک ایسا امن عمل شروع ہو چکا ہے جو ہزاروں سال پرانے تنازع کو ختم کرنے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے مخصوص پُرجوش انداز میں کہا کہ تین ہزار سالہ پرانا مسئلہ حل ہونے کو ہے اور ہم تاریخ رقم کرنے والے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ حماس کے پیش کردہ امن منصوبے کو تمام فریقین نے مثبت انداز میں قبول کیا ہے اور غزہ میں جہاں کبھی جنگ کی آگ بھڑکتی تھی، اب مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سب فریقین بنیادی اصولوں پر متفق ہیں اور کسی بڑی لچک یا رعایت کی ضرورت نہیں۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ اگلے دو سے چار دن میں اس امن منصوبے کے نتائج سامنے آئیں گے اور خطے کے لوگ خوشی منائیں گے۔

ٹرمپ نے امریکا کے اس تاریخی امن کوشش کا حصہ بننے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اب امن کے ساتھ جینا چاہتا ہے، ہم ہر قوم کے امن کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگرچہ امن منصوبے میں کچھ معمولی ترامیم ممکن ہیں، لیکن اس کے بنیادی خدوخال پر سب کا اتفاق موجود ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران امریکی فوجی اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں امریکی فوج جیسی طاقت کسی کے پاس نہیں، نیوی سیل کے جوان بہادری اور عزم کی علامت ہیں۔

انہوں نے حکومت کی جزوی بندش کے باوجود فوجیوں کی تنخواہیں جاری رکھنے کا اعلان کیا اور یقین دلایا کہ وہ فوجی اہلکاروں کے لیے مساوی اضافے کی حمایت جاری رکھیں گے۔

ٹرمپ نے اپنی تقریر کے اختتام پر ڈیموکریٹ پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار ڈیموکریٹس ہیں، جو ریپبلکن پارٹی کے کندھے پر بیٹھی ایک مکھی سے زیادہ نہیں۔ ان کے اس طنزیہ جملے پر سامعین نے قہقہے لگائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار

اسحاق ڈار---فائل فوٹو

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

پاکستان خطے کی بڑی طاقت اور یورپی یونین کا شراکت دار ہے: کایا کالاس

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔

نائب وزیرِ اعظم  نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا ایران سے تحریری وعدے کا مطالبہ!
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار