ٹرمپ انتظامیہ نے شکاگو کو ’جنگی علاقہ‘ قرار فوجی دستے تعینات کرنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
شکاگو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے شکاگو کو ’جنگی علاقہ‘ قرار دیتے ہوئے وہاں فوجی دستے تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکا بھر میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ کی جرائم اور امیگریشن کے خلاف سخت پالیسی کو ڈیموکریٹس نے اختیارات کے ناجائز استعمال کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
شکاگو میں بھی مقامی ڈیموکریٹک حکام نے ٹرمپ کے اقدام کی سخت مخالفت کی ہے۔ اسی دوران ایک جج نے ایک اور ڈیموکریٹک شہر پورٹ لینڈ میں فوج بھیجنے کے وائٹ ہاؤس کے حکم کو معطل کر دیا ہے۔
اس نئے تنازع کی ابتدا اس وقت ہوئی جب ٹرمپ نے ہفتے کی رات شکاگو میں نیشنل گارڈ کے 300 اہلکاروں کی تعیناتی کی منظوری دی۔
امریکا کی سیکرٹری ہوم لینڈ سکیورٹی کرسٹی نوم نے حکومت کے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’شکاگو دراصل ایک جنگی علاقہ بن چکا ہے‘۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اس سے قبل دارالحکومت واشنگٹن میں بھی نیشنل گارڈز تعینات کرچکے ہیں۔
امریکا میں ہونے والے ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 42 فیصد شہری امریکی شہروں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے حق میں ہیں جبکہ 58 فیصد اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے منگل کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ ’اندرونی جنگ‘ کے لیے فوج کا استعمال کر سکتے ہیں، انہوں نے آج ایک غلط دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’پورٹ لینڈ جل کر راکھ ہو رہا ہے، ملک بھر میں بغاوت پھیل چکی ہے‘۔
ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن نے بھی امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دستے حقیقی معنوں میں ایک جنگی زون سے نمٹ رہے ہیں‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔