افغانستان کی صورتحال پر پاکستان، ایران، روس اور چین کی اہم بیٹھک آج ہوگی، اہم فیصلے متوقع
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
( ویب ڈیسک )افغانستان کی صورتحال پر پاکستان، ایران، روس اور چین سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق افغانستان کے معاملے پر آج روس میں 4 ملکوں کا غیر معمولی اجلاس ہو گا، اجلاس میں پاکستان، ایران، روس اور چین کے نمائندے شریک ہوں گے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق خان کریں گے، اجلاس میں افغانستان کی صورتحال، علاقائی سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے معاملات پر گفتگو ہو گی۔
کوئٹہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے
سفارتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک ممالک کی جانب سے افغانستان میں کسی بیرونی غیر ملکی اڈے کے قیام کی مخالفت کی تجدید کی جائے گی، اس کے علاوہ 1988کے پابندیوں کے نظام میں زمینی حقائق کے تناظر میں ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت پر زور دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چاروں ممالک طالبان رہنماؤں کے سفری استثنیٰ کے معاملے پر دہرے معیار سے متعلق بھی گفتگو کریں گے، پاکستان بین الاقوامی برادری سے افغانستان کے لیے ہنگامی انسانی امداد بڑھانے کا مطالبہ کرےگا۔
شہیدوں کی قربانیوں پر ہزاروں حکومتیں قربان ہیں؛ حنیف عباسی
سفارتی ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا معاملہ اٹھائےگا، محمد صادق افغانستان سےکالعدم دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں افغانستان سے دہشت گردوں کی بھرتیوں، اسلحہ فراہمی، فنڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا جائےگا، پاکستان افغانستان میں کالعدم بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور جیش العدل کی محفوظ پناہ گاہوں، تربیتی مراکز اور انفرا اسٹرکچر کے خاتمے کا مطالبہ کرے گا۔
دنیا کو نئے اقوام متحدہ کی ضرورت ہے ؛حافظ نعیم الرحمان،فلسطین کا دو ریاستی حل مسترد
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چاروں ممالک باہمی علاقائی منسلکی، انسداد منشیات، انسداد اسمگلنگ اور ترقیاتی منصوبوں پر زور دیں گے، چاروں ملک انسانی حقوق بالخصوص خواتین، بچوں کے حقوق کی بحالی اور لڑکیوں کی تعلیم و روزگار پر زور دیں گے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ اجلاس میں پاکستان، روس، چین اور ایران افغانستان میں جامع اور وسیع البنیاد حکومت کے قیام پر بھی زور دیں گے، پاکستان افغان مہاجرین کی جلد از جلد و باعزت واپسی پر بھی زور دے گا۔
آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان؛ محکمہ موسمیات
اس کے علاوہ اجلاس میں چاروں ممالک افغانستان کے منجمد بین الاقوامی اثاثہ جات کی بحالی پر بھی زور دیں گے، افغان حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں مزید بہتری پر بھی بات چیت کی جائےگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سفارتی ذرائع افغانستان کی زور دیں گے اجلاس میں کا مطالبہ ذرائع کا پر بھی
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔