پنجاب حکومت کا بڑا اعلان: سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف پیکج، 17 اکتوبر سے امدادی چیک تقسیم ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے 2025 کے تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرین کے لیے جامع ریلیف پیکج تیار کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 17 اکتوبر سے متاثرین کو امدادی چیکس کی تقسیم شروع کر دی جائے گی۔
عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ رواں برس پنجاب کو تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جس سے 27 اضلاع میں تقریباً 4.
وزیراطلاعات نے بتایا کہ سیلاب کے دوران سانپ کے کاٹنے کے 174 کیس رپورٹ ہوئے، تاہم حکومت کی بروقت تیاری اور صحت کے نظام کی موجودگی کے باعث کسی انسانی جان کا ضیاع نہیں ہوا۔ مزید بتایا گیا کہ ساڑھے چھ لاکھ متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے سول ڈیفنس اہلکاروں کی تنخواہوں میں 15 ہزار روپے اضافے کا اعلان کیا ہے تاکہ انہیں مزید سہولیات اور سازوسامان فراہم کیا جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو ’’کلائمٹ کلیمٹی ایریا‘‘ قرار دیا جائے گا اور وہاں کے عوام کو مختلف ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے گی۔ مزید برآں، 400 سے زائد موضع جات کا سروے مکمل ہو چکا ہے جبکہ بقیہ کا کام اس ماہ کے آخر تک ختم کر لیا جائے گا۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وہ خاندان جو دریائی گزرگاہوں (ریور بیڈز) میں آباد تھے، اگرچہ قانونی طور پر معاوضے کے اہل نہیں تھے، تاہم وزیراعلیٰ نے خصوصی ہدایت دی ہے کہ انہیں بھی ریلیف پروگرام میں شامل کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ وہ مستقبل میں محفوظ علاقوں میں گھر تعمیر کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے صوبے کے مشکل وقت کو بعض سیاسی عناصر نے سیاست چمکانے کے لیے استعمال کیا، لیکن پنجاب حکومت نے عملی اقدامات کے ذریعے متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنا کردار ادا کیا ہے۔
پنجاب کابینہ نے ہدایت دی ہے کہ حکومتی اخراجات میں سادگی اختیار کی جائے اور غیر ضروری منصوبوں کو فی الحال مؤخر کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ وسائل سیلاب متاثرین کی بحالی پر خرچ کیے جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.