پنجاب اور سندھ حکومت کا سیلاب متاثرین کی امداد پر مناظرے کا چیلنج، کب اور کہاں ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ملک بھر میں حالیہ سیلابی تباہی نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ اس بحران کے تناظر میں، وفاقی حکومت اور متعلقہ صوبائی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت اور شفاف امداد فراہم کریں۔ سیلاب متاثرین کی امداد کے معاملے پر سیاسی گرما گرمی بھی بڑھ گئی ہے۔
پنجاب اور سندھ حکومت نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مناظرے کا چیلنج دیا ہے، جس پر دونوں حکومتوں نے چیلنج قبول تو کرلیا ہے تاہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا ہے کہ مناظرہ کب اور کہاں ہوگا؟
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان
سندھ اور پنجاب حکومتوں کے درمیان کشیدگی آئے روز بڑھتی جا رہی ہے اور دونوں حکومتوں کے ترجمان ایک دوسرے پر وار کر رہے ہیں اور مناظرے کے چیلنج کر رہے ہیں، مناظروں کے چیلنج کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا کہ جب پی پی رہنما اور رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے گزشتہ ہفتے ایک مارننگ شو میں پنجاب حکومت کی کارکردگی کو نشانہ بنایا اور سندھ اور پنجاب حکومتوں کی کارکردگی کے موازنے کا چیلنج دیا جس پر 2 اکتوبر کو پی پی رہنما شرمیلا فاروقی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت عظمیٰ بخاری نے مناظرے کا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی شوق سے مناظرہ کرے ہم تیار ہیں۔
ترجمان پنجاب حکومت عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے شفاف اور منظم طریقہ کار اپنایا ہے۔ امدادی رقوم کے تمام ریکارڈ موجود ہیں، اور ہم ہر فورم پر حساب دینے کو تیار ہیں۔ جو لوگ سیاست چمکانے کے لیے متاثرین کے دکھوں کا استعمال کر رہے ہیں، وہ دراصل ان کے دشمن ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کا سروے تیزی سے جاری، ہر فرد کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے ن لیگ کی صوبائی قیادت کو مناظرے کا چیلنج دے دیا اور کہا کہ پنجاب حکومت کو اپنے اعلانات اور دعوؤں کے ثبوت لانے ہوں گے۔ صرف تقریروں سے حقائق نہیں چھپائے جا سکتے۔ عوام خود دیکھ رہے ہیں کہ کتنے لوگ آج بھی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے گزشتہ روز ہی شرجیل انعام میمن کا مناظرے کا چیلنج بھی قبول کر لیا اور کہا کہ مناظرے کی جگہ اور وقت کا تعین آپ نے کرنا ہے، مناظرے کے لیے اپنی پسند کی جگہ اور وقت دیں لیکن مناظرے کے لیے خود آئیے گا کسی پراکسی کے پیچھے نہ چھپیے گا۔
مزید پڑھیں: سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال نہ کرنا غفلت ہوگی، آصفہ بھٹو
دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے ترجمان اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پنجاب حکومت بیان بازی نہ کرے سیلاب متاثرین کی مدد کرے، پنجاب حکومت سے مناظرے کے لیے تیار ہوں، یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ خدمت کا ہے۔ اگر پنجاب حکومت واقعی شفافیت پر یقین رکھتی ہے تو وہ مناظرے کے بجائے امدادی کاموں کے آڈٹ کے لیے آزاد کمیشن تشکیل دے۔
مناظرے کے وقت اور مقام کا تعین فی الحال تو نہیں کیا گیا البتہ متعدد بار مخالفین کے مناظروں کے چیلنج قبول کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ کے سیلاب متاثرین کو کہاں آباد کیا جا رہا ہے؟
سیاسی تجزیہ کار انصار عباسی کا کہنا ہے کہ سندھ اور پنجاب حکومتوں کے ترجمان جو باتیں کر رہے ہیں وہ صرف میڈیا کی ہی زینت ہیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ دونوں جماعتوں کی ایک دوسرے کو سپورٹ کے بغیر وفاقی حکومت کا قیام ممکن نہیں تھا، میرا خیال ہے کہ یہ کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی، پیپلز پارٹی چونکہ پنجاب میں اپنے سیاسی سفر کو پھر سے شروع کرنا چاہتی ہے اور پنجاب میں مقبولیت چاہتی ہے اس لیے اس طرح کے بیانات دیے جا رہے ہیں، میرے خیال ہے کہ یہ مناظرے کے چیلنج اور ایک دوسرے پر تنقید صرف بیانات کی حد تک ہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت سندھ حکومت سیلاب سیلاب متاثرین مناظرہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت سندھ حکومت سیلاب سیلاب متاثرین سیلاب متاثرین کی مناظرے کا چیلنج پنجاب حکومت مزید پڑھیں کر رہے ہیں اور پنجاب مناظرے کے ایک دوسرے کہ پنجاب کے چیلنج اور کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔