وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے، پی ٹی آئی کی پیپلز پارٹی کو پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے، پی ٹی آئی کی پیپلز پارٹی کو پیشکش WhatsAppFacebookTwitter 0 6 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کو پیشکش کی ہے کہ آپ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے بیان کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی آمنے سامنے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے آج احتجاجا قومی اسمبلی اور سینیٹ سے واک آٹ کیا، اور مریم نواز کے بیان کی شدید مذمت کی۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سینیئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی راجا پرویز اشرف نے کہاکہ میرا تعلق پنجاب سے ہے لیکن ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کوئی اس بھول میں نہ رہے کہ پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگا دے گا، ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ متنازعہ بیانات دینے کی آخر وجہ کیا ہے۔راجا پرویز اشرف نے کہاکہ ایسا نہ ہو کہ پھر صوبائیت کی بدبو پھیلا دی جائے، ہم تو پاکستان کھپے کا نعرہ لگانے والے لوگ ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی و سابق اسپیکر اسد قیصر نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے فرینڈلی فائر بیک کا خیر مقدم کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی پوائنٹ اسکورنگ نہ کرے، یہ لوگ اگر سنجیدہ ہیں تو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں، ہر مسئلے کا بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام نہیں ہے، اس کے بعد سے دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی شروع ہوگئی، خصوصا سندھ اور پنجاب کی حکومتیں آمنے سامنے ہیں۔
وزیراطلاعات پنجاب عظمی بخاری کوئی بیان جاری کرتی ہیں، تو سندھ سے شرجیل میمن اور دیگر کی جانب سے جواب آ جاتا ہے۔ عظمی بخاری نے شرجیل میمن کا مناظرے کا چیلنج بھی قبول کرلیا ہے۔دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی اس سیاسی کشیدگی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو کراچی طلب کرلیا ہے، جہاں اس حوالے سے مشاورت کی جائیگی۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے اس معاملے پر وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے مقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے صوبے کے حوالے سے کسی بھی بات کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسیاسی بیان بازی: ن لیگ اور پی پی وفود کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم سیاسی بیان بازی: ن لیگ اور پی پی وفود کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم سیاسی بیان بازی : پیپلز پارٹی کا سینیٹ سے واک آ ئوٹ ، لیگی قیادت سے معافی کا مطالبہ شام، بشارالاسد کے بعد پہلا الیکشن، احمد الشرع نے خود 70 ارکان نامزد کرلیے پی ٹی آئی نے حافظ نعیم کا عمران خان سے متعلق بیان بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا فرانسیسی وزیراعظم نے صرف 26 دن بعد عہدے سے استعفی دے دیا ڈرگ کورٹ راولپنڈی کی جعلی ادویات کی فروخت پر ملزمان کو 8سال قید کی سزاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی پی ٹی آئی پارٹی کو
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔