گاجر کے حیرت انگیز فوائد، آنکھوں کو کن بیماریوں سے بچاتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: غذائیت سے بھرپور سبزی گاجر نہ صرف اپنی مٹھاس اور رنگت کے باعث پسند کی جاتی ہے بلکہ یہ آنکھوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قدرتی غذا بھی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق گاجر میں موجود بیٹا کیروٹین اور لیوٹین جیسے طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس بڑھتی عمر کے ساتھ پیدا ہونے والی آنکھوں کی بیماریوں، خصوصاً میکولر ڈی جینریشن** سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم بیٹا کیروٹین کو وٹامن اے میں تبدیل کرتا ہے، جو بینائی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، گاجر وٹامن اے کی صرف معمولی مقدار فراہم کرتی ہے، اس لیے صرف گاجر کے زیادہ استعمال سے بینائی میں نمایاں بہتری ممکن نہیں۔ وٹامن اے کی مناسب مقدار حاصل کرنے کے لیے دودھ، پنیر، انڈے کی زردی اور جگر جیسے دیگر غذائی ذرائع کو بھی خوراک کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
**امریکن اکیڈمی آف اوپتھلمولوجی کے مطابق صرف گاجر کھانے سے آنکھوں کی صحت بہتر نہیں ہوتی بلکہ متوازن غذا اپنانا سب سے اہم عنصر ہے، جس میں مختلف غذائی اجزاء کا توازن برقرار رکھا جائے۔
ماہرین کے مطابق گاجر کے استعمال کے فوائد صرف آنکھوں تک محدود نہیں۔ یہ فائبر سے بھرپور سبزی نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے، قبض سے بچاتی ہے اور بڑی آنت کے کینسر سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ فائبر بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے میں بھی معاون ہے، جس سے شوگر کے مریضوں کو خاص فائدہ پہنچتا ہے۔
اس کے علاوہ گاجر میں موجود لائیکوپی دل کی صحت کے لیے نہایت مفید سمجھا جاتا ہے، جو بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق گاجر میں پائے جانے والے بیٹا کیروٹین اور لائیکوپین جلد کو سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں، اگرچہ یہ کسی سن اسکرین کا متبادل نہیں۔
گاجر کو روزمرہ خوراک میں شامل کرنا صحت مند زندگی کی جانب ایک سادہ مگر مؤثر قدم ہے، جو نہ صرف بینائی بلکہ جسم کے دیگر اہم نظاموں کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔