WE News:
2026-07-24@01:55:10 GMT

چیف جسٹس آف انڈیا پر جوتا پھینکنے کی کوشش، ملزم گرفتار

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

چیف جسٹس آف انڈیا پر جوتا پھینکنے کی کوشش، ملزم گرفتار

بھارتی سپریم کورٹ میں اس وقت ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب ایک بزرگ شخص نے چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوائی کی جانب جوتا پھینک دیا۔

جوتا بینچ تک نہ پہنچ سکا اور سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو حراست میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کی درندگی، سرحد پار کرنے والی 8 بکریاں ہلاک، 54 کی ٹانگیں توڑ دیں

عینی شاہدین کے مطابق، چیف جسٹس گوائی نے جیسے ہی دن کے پہلے مقدمے کی سماعت شروع کی، ایک بزرگ شخص نے نعرے لگانے شروع کیے کہ “ھارت ساناتن کی توہین برداشت نہیں کرے گا اور اسی دوران جوتا چیف جسٹس کی طرف اچھال دیا۔

Unprecedented Fascist Act.

Lawyer tries to hurls shoe at Dalit Chief Justice of India, Gavai, in Supreme Court –shouting we will not tolerate his legal actions against Sanatan Dharma — High Caste Manuvadi Hinduism!
But CJI says "These Don’t Affect Me".https://t.co/8n6qyL1KGZ

— Jawhar Sircar (@jawharsircar) October 6, 2025

تاہم پھینکا گیا جوتا اپنے ہدف تک نہ پہنچ پایا اور فوراً ہی اہلکاروں نے اسے قابو کر لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، جوتا پھینکنے والے شخص کے پاس وہ سیکیورٹی کارڈ تھا جو سپریم کورٹ میں وکلا اور ان کے معاون عملے کو دیا جاتا ہے، کارڈ پر نام کیشور راکیش درج تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے کی وجوہات کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے اور سیکیورٹی ادارے ملزم سے تفتیش کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارتی ہٹ دھرمی برقرار: ویمنز ورلڈ کپ کے میچ میں بھی بھارتی کپتان کا پاکستانی کپتان سے ہاتھ ملانے سے گریز

چیف جسٹس گوائی نے واقعے کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے واقعات سے متاثر ہونے والے آخری شخص ہیں لہذا سماعت جاری رکھی جائے۔

انہوں نے عدالتی عملے کو مذکورہ شخص کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کرنے کی ہدایت بھی کی۔

معروف قانون دان اندرا جیسنگھ نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں۔

مزید پڑھیں:بھارت نے اگر دوبارہ حملے کی کوشش کی تو اسکور پہلے سے بہتر ہوگا، خواجہ سعد رفیق

ان کے بقول، یہ سپریم کورٹ پر ایک واضح ذات پات پر مبنی حملہ معلوم ہوتا ہے جسے اجتماعی طور پر مسترد کیا جانا چاہیے۔

’چیف جسٹس نے جس وقار کے ساتھ اپنی کارروائی جاری رکھی، وہ قابلِ تعریف ہے۔‘

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چیف جسٹس گوائی حال ہی میں خجوراہو میں وشنو کے مجسمے کے حوالے سے دیے گئے ایک بیان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں تھے۔

مزید پڑھیں: ثنا میر اور بھارتی انجم چوپڑا ایک ساتھ، ’کھیل میں نفرت پھیلانے والوں کے لیے یہ پیغام ہے‘

چیف جسٹس نے ایک عوامی مفاد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ’جائیے، خود دیوتا سے کہیں کہ وہ کچھ کریں۔‘

اس بیان کے بعد مذہبی حلقوں نے اسے ’وشنو بھکتوں کے عقیدے کی توہین‘ قرار دیا تھا۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے وضاحت کی تھی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، انہوں نے کہا کہ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ سے ساڑھی کی صنعت بحران کا شکار

اس موقع پر سولیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ سوشل میڈیا ہر بات کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا دیتا ہے۔

’پہلے ہم نیوٹن کا قانون پڑھتے تھے کہ ہر عمل کا برابر ردِعمل ہوتا ہے، مگر اب ہر عمل کا غیر متناسب سوشل میڈیائی ردِعمل ہوتا ہے۔‘

سینیئر وکیل کپل سبل نے بھی اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ اس کا سامنا کرتے ہیں، سوشل میڈیا ایک بے لگام گھوڑا ہے، جسے قابو کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اندرا جیسنگھ بھارت بی آر گوائی بے لگام تشار مہتا چیف جسٹس سپریم کورٹ سوشل میڈیا قانون دان گھوڑا نیوٹن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اندرا جیسنگھ بھارت بی آر گوائی بے لگام تشار مہتا چیف جسٹس سپریم کورٹ سوشل میڈیا گھوڑا نیوٹن سپریم کورٹ مزید پڑھیں سوشل میڈیا کرتے ہوئے چیف جسٹس کہا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی