بھارت نے دوبارہ حرکت کی تو پہلے سے زیادہ رسوا ہوگا‘ خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251007-08-33
اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت نے پہلے ایڈونچر کیا تو پوری دنیا میں ذلت اٹھائی اگر دوبارہ کوئی حرکت کی تو پہلے سے زیادہ رسوائی ہوگی۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کوئی بھی منصوبہ بندی کرے گا جس طرح پہلے ہم نے جواب دیا اسی طرح اب بھی دیں گے انشا اللہ ہمیں کامیابی ملے گی‘ وہ جو کوشش کر رہے ہیں یہ انتخابی مرحلے اور سیاست کی وجہ سے ان کی اندرون خانہ ضرورت بن گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں گے، امن منصوبے کی وجہ سے غزہ میں روشنی کی کرن نظرآئی ہے‘ ابھی اس حوالے سے حتمی صورتحال سامنے آئے گی‘ فلسطین کی ریاست قائم ہوگی اور وہ اپنی ریاست میں آزادی کا سانس لے سکیں گے۔وزیر دفاع نے کہا کہ یہ دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطین کے حقوق کی بات کرے اور ان کا ساتھ دے، دنیا فلسطین کے لیے گلیوں بازاروں اور شہروں میں نکلی ہوئی ہے، یہ اس بات کی شہادت ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔