راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)اڈیالہ جیل میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت پر بانی پی ٹی آئی نے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کردیا۔

روزنامہ جنگ کے مطابق راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کی، اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک اپنی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ بھی وہاں موجود تھے۔

عدالت نے 3 مرتبہ بانی پی ٹی آئی کو پیش ہونے کا پیغام بھیجا تاہم جیل عملے نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے انکار کردیا ہے۔

لیسکو  کاپولیس اور رینجرز کے تعاون سے کریک ڈاؤن،228 بجلی چور گرفتار ، کروڑوں روپے ریکور کر لیے

جیل عملے نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کہہ رہے ہیں ان کی طبیعت ٹھیک نہیں۔عدالت، پراسیکیوشن ٹیم اور بانی پی ٹی آئی کے وکلاء 1 گھنٹہ 40 منٹ تک انتظار کرتے رہے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جی ایچ کیو حملہ کیس میں حاضری لگنی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا جیل ٹرائل بحال کردیا گیا تھا۔پنجاب حکومت نے جیل ٹرائل کی بحالی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: جی ایچ کیو حملہ کیس بانی پی ٹی آئی

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران