سعودی پاک انویسٹمنٹ کمپنی پاکستان میں سرمایہ کاری کیسے کر رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ کمپنی، سعودی پاک انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ، سنہ 1981 میں قائم ہوئی تاکہ صنعتی اور زرعی شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق سعودی سفیر ڈاکٹر علی عسیری کی پاک سعودی تعلقات پر نئی کتاب
یہ کمپنی دونوں حکومتوں کی برابر کی شراکت داری پر مبنی ہے اور اب تک مالی و صنعتی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر چکی ہے۔
سعودی پاک انویسٹمنٹ کمپنی کے مالی اعداد و شمار کے مطابق کمپنی کے کل اثاثے 56.
علاوہ ازیں سعودی پاک کی کریڈٹ ریٹنگ ‘AA+’ ہے جو ایک قابل اعتماد مالیاتی ادارے کی علامت ہے۔
کمپنی نے ملک کے صنعتی اور زرعی شعبوں کو طویل مدتی اور قلیل مدتی قرضے فراہم کیے ہیں جن کی مدد سے مقامی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
ساتھ ہی سعودی پاک نے لیزنگ، ایکوئٹی سرمایہ کاری اور اسلامی مالیاتی مصنوعات بھی متعارف کرائی ہیں تاکہ مختلف کاروباری طبقوں کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب میں آئی ٹی اور سائبر سیکیورٹی پر پاک سعودی تعاون پر اتفاق
سعودی پاک کمپنی خود بڑے انفراسٹرکچر منصوبے شروع نہیں کرتی لیکن اس نے متعدد صنعتی، زرعی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی ہے۔
کمپنی نے سعودی سرمایہ کاری کو پاکستان کی طرف راغب کرنے کے لیے ریاض میں ایک علاقائی دفتر قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔
رواں سال اگست میں پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے تناظر میں سعودی کمپنی ACWA Power کو پاکستان میں تقریباً 2،800 میگاواٹ کے شمسی توانائی منصوبے کی پیشکش کی گئی ہے۔
سال کے آغاز میں منارا منرلز کمپنی نے ریکوڈک کان منصوبے میں 10 سے 20 فیصد حصص لینے کی خواہش ظاہر کی تھی اور سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں تقریباً 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کی پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی خواہش، سربراہ پاسداران انقلاب کا اہم بیان
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سعودی پاک انڈسٹریل اینڈ ایگری کلچرل انویسٹمنٹ کمپنی کو پاکستان میں ’سعودی پاک ریئل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ کمپنی‘ کے قیام کی اجازت دے دی ہے۔
یہ نئی کمپنی ملک میں انفراسٹرکچر منصوبوں، رہائشی اسکیموں، سیاحتی مقامات، شاپنگ مالز، ہوٹلز اور آفس بلاکس کی ترقی کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گی۔
ذرائع کے مطابق کمپنی کے قیام کے لیے درکار ابتدائی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور جلد ہی اس کی سرگرمیاں چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں شروع کر دی جائیں گی۔
بسعودی عرب اور پاکستان کے اشتراک سے قائم اس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ابتدائی طور پر 50 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وی ورلڈ: پاک سعودی تعلقات عصری اور تاریخی دونوں اعتبار سے انتہائی اہم ہیں، ڈاکٹر طلحہ
مزید براں سعودی سرمایہ کاری کو پاکستان میں راغب کرنے کے لیے کمپنی کا علاقائی دفتر ریاض میں بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
مستقبل میں سعودی پاک کمپنی کا منصوبہ قابل تجدید توانائی، صنعتی زونز، اسلامی بینکاری اور مقامی صنعتوں کی معاونت پر مرکوز ہے۔
اس کے علاوہ کمپنی سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے کاروباری مواقع سے جوڑنے کے لیے مزید مشترکہ منصوبے تشکیل دینے کی کوشش میں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی پاک کمپنی نہ صرف دونوں ممالک کے مالی تعلقات کو مضبوط کر رہی ہے بلکہ پاکستان کی صنعتی و زرعی ترقی میں بھی ایک نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: آرامکو نے سعودی عرب میں تیل اور گیس کے 14 نئے ذخائر دریافت کرلیے
توقع کی جا رہی ہے کہ کمپنی آئندہ سالوں میں اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے خطے کی ایک بڑی سرمایہ کاری کمپنی بن جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی سرمایہ کاری پاکستان سعودی پاک انویسٹمنٹ کمپنی سعودی عرب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک سعودی سرمایہ کاری پاکستان سعودی پاک انویسٹمنٹ کمپنی سعودی پاک انویسٹمنٹ کمپنی سعودی سرمایہ کاری پاکستان میں کو پاکستان پاک سعودی کمپنی کے رہی ہے کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔