مریم نواز کو انہی کے لہجے میں جواب دیا تو یہ ان کیلئے بھی مناسب نہیں ہوگا، قمر زمان کائرہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ اگر مریم نواز کو اُنہی کے لہجے اور الفاظ میں جواب دیا جائے تو یہ خود اُن کے لیے بھی مناسب نہیں ہوگا۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے مریم نواز کے اندازِ گفتگو اور بیانات کو افسوسناک قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر لہجوں میں تلخی آئی تو اس سے تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کسی کو نیچا دکھانا نہیں چاہتی اور نہ ہی معاملے کو بگاڑنے کے حق میں ہے۔
قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی حکومت کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی، تاہم حکومت سازی کے وقت جو معاہدہ ہوا تھا، اس کی متعدد شقوں پر پنجاب حکومت نے عمل نہیں کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کی شرائط پر پنجاب حکومت نے ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قمر زمان کائرہ
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔