کراچی (نیوز ڈیسک) حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس تباہ کن واقعے نے اسرائیل کے داخلی اور خارجی محاذوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ غیر ملکی امور کے تجزیہ کاروں کا متفقہ خیال ہے کہ ان حملوں نے اسرائیل کو دو بنیادی طریقوں سے بدل ڈالا ہے، مگر ایک کلیدی مسئلہ وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ سب سے پہلی اور سب سے بڑی تبدیلی اسرائیل کے سلامتی کے پرانے تصور کی مکمل تباہی ہے۔ یہ نظریہ برسوں سے قائم تھا کہ حماس کو معاشی ترغیبات اور محاصرے کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، لیکن سرحد پر موجود جدید ترین ٹیکنالوجی، مضبوط باڑ اور انٹیلی جنس سسٹم کی ناکامی نے اس تصور کو پاش پاش کر دیا۔ اس دفاعی ناکامی نے اسرائیلی عوام کا اپنی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ پر اعتماد توڑ دیا ہے اور اب اسرائیلی پالیسی کا مقصد حماس کو محض قابو میں رکھنا نہیں، بلکہ اس کی عسکری اور حکومتی صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔دوسری اہم تبدیلی اسرائیل کے اندرونی سیاسی منظر نامے میں آئی ہے۔ اگرچہ حملے کے بعد قومی یکجہتی کی فضا قائم ہوئی، لیکن یہ دیرپا ثابت نہ ہو سکی۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور سیکورٹی حکام کو عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا ہے اور بڑے احتجاجی مظاہرے حکومت کے خلاف سیاسی عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملک کی تمام تر توجہ داخلی جھگڑوں سے ہٹ کر قومی سلامتی اور یرغمالیوں کی واپسی پر مرکوز ہو گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے اسرائیل

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم