سیالکوٹ، اجتماعی زیادتی کیس میں مطلوب 2 مرکزی ملزمان گرفتار، 5 سال بعد مکمل گروہ قانون کی گرفت میں
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
سیالکوٹ:
تھانہ پھلورہ کے علاقہ ڈگری ہریاں میں نابالغ لڑکی سے اجتماعی زیادتی اور ویڈیو بنانے کے سنگین مقدمے میں مفرور دو مرکزی ملزمان کبیر اور سعد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق، مقدمے میں مطلوب پانچ ملزمان میں سے تین حسنین، اختشام اور سمران کو پہلے ہی دو روز قبل گرفتار کیا جا چکا تھا۔
ترجمان پولیس سیالکوٹ کے مطابق، ملزمان نے پانچ سال قبل ایک نابالغ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی تھی جسے منظر عام پر لانے کے بعد متاثرہ لڑکی نے خوف کے مارے طویل عرصے تک خاموشی اختیار کیے رکھی۔
واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ڈی پی او فیصل شہزاد کے نوٹس پر مقدمہ درج کیا گیا۔
ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھیں جنہوں نے پیشہ ورانہ مہارت سے تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ڈی پی او نے تمام پولیس ٹیموں کو کامیاب کارروائی پر شاباش دی ہے۔
ڈی پی او فیصل شہزاد کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق خواتین و بچوں کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے اور اس کیس میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر تفتیش مکمل کر کے ملزمان کو عدالت سے عبرتناک سزا دلوائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈی پی او
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔