صدر سے حکومتی وفد کی ملاقات، ن لیگ اور پی پی کو بیان بازی سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
نواب شاہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) ن لیگ اور پی پی میں سیز فائر ہوگیا، دونوں جماعتوں کو بیان بازی سے روک دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے حکومتی وفد نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بیان بازی روکنے پر رضا مند ہوگئے۔
پنجاب حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت کا وفد صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملنے زرداری ہاؤس نواب شاہ پہنچا۔
وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے، صدر زرداری سے ملاقات میں پنجاب اور سندھ حکومت کے درمیان حالیہ کشیدگی سے متعلق مختلف امور زیر غور آئے۔
فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر لینڈ کو اسلام آباد میں قتل کردیا گیا
ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو وزیراعظم شہبازشریف سے مسلم لیگی رہنماؤں کی ملاقات میں ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا، ملاقات میں ملک میں سکیورٹی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار
نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے گارنٹی دی کہ پنجاب حکومت کی جانب سے بیان بازی نہیں کی جائے گی اور نوازشریف دونوں پارٹیوں کو ملکر چلنے پر اتفاق کرتے ہیں، جس طرح پنجاب میں بہترین کام ہوئے وہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس سے قبل ایسا کام کبھی نہ ہوا۔
بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 18 اکتوبر کو طلب کر لیا
اسحاق ڈار نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے ایسی مہم شروع کرنا ناقابل برداشت تھی، اسحاق ڈار اور سپیکر ایاز صادق نے گارنٹی دی کہ دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات بیٹھ حل ہونے چاہئیں ایسے بیان بازی سے دونوں سیاسی جماعتوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی بھر پور کاوشوں پر دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے معاملات حل کروانے پر ان کا شکریہ ادا کیا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی محسن نقوی نے ثالثی کا بہترین کردار ادا کیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ کئی روز سے پنجاب اور سندھ حکومت کے درمیان ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری جاری تھی۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا ؟
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان پر پیپلز پارٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کرتے ہوئے اپنے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ اگر کوئی پنجاب کے خلاف بات کرے گا تو بطور وزیر اعلیٰ میں اسے جواب ضرور دوں گی اور صوبے کے عوام کا تحفظ کروں گی، کسی سے معافی نہیں مانگوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے درمیان اسحاق ڈار اور پی
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین